برطانیہ میں ’سٹاپ اینڈ سرچ‘: کیا نشانہ ایشیائی ہیں؟

لندن میں ایک مسجد تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption نوجوان یہ بھی شکایت کرتے ہیں کہ انھیں ان کے مذہب اور نسل کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے

لندن میں پولیس اہلکار نوجوانوں کے ساتھ مل رہے ہیں تاکہ وہ انسدادِ دہشت گردی اور روک کر تلاشی لینے جیسے اقدامات پر کھل کر بات کر سکیں۔

ان کا کہنا ہے کہ وہ شاذ و نادر ہی نوجوانوں خصوصاً نسلی برادری سے تعلق رکھنے والے ٹین ایجرز سے اس کے متعلق کچھ سنتے ہیں۔

جب بی بی سی ٹیم وہاں پہنچی تو پولیس اہلکار نوجوانوں کے سوالوں کے جواب دے رہے تھے۔ ایسا اس لیے کیا جا رہا ہے کہ ان نوجوانوں کی بات بھی سنی جائے۔

14 سالہ عباس بھی ان میں سے ایک ہیں۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا آپ ان افراد کو جانتے ہیں جو ’سٹاپ اینڈ سرچ‘ آپریشن سے متاثر ہوئے ہوں، تو ان کا جواب تھا: ’ہاں، میرے کئی دوست (متاثر) ہوئے ہیں۔‘

’یہ اگر متاثرہ نسلوں جیسا کہ ایشیائی یا جمائیکن اور کریبیائی لوگوں کے خلاف زیادہ ہے تو یہ ہماری نظروں میں ذرا نسل پرستانہ ہے۔‘

لندن میں پولیس کے پاس اختیار ہے کہ وہ کبھی بھی کسی کو روک کر سوالات کر سکتی ہے۔ وہ حالات کے مطابق آپ کی تلاشی بھی لے سکتی ہے۔ اس کو برطانیہ میں ’سٹاپ اینڈ سرچ‘ کہتے ہیں۔

2013 میں شائع ہونے والی رپورٹس کے مطابق ایشیائی اور دیگر نسلی گروہوں سے تعلق رکھنے والوں کے اس طرح روکے جانے کا سفید فام افراد کی نسبت دوگنا امکان ہے۔

گذشتہ سال ’سٹاپ اینڈ سرچ‘ کیے جانے والے ایک لاکھ 70 ہزار افراد میں سے تقریباً 13 فیصد ایشیائی تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption گذشتہ برس روک کر تلاشی لیے جانے والوں میں سے 13 فیصد ایشیائی نژاد تھے

شمال مغربی لندن کے علاقے ہیرو میں پولیس فورس کے کمانڈر سائمن اونز کے خیال میں ایسا نہیں ہوتا۔

وہ کہتے ہیں کہ ایشیائی اور سفید فام باشندوں کو روکنے کی شرح غیر متناسب نہیں ہے۔

گذشتہ ماہ پولیس کے ایک واچ ڈاگ نے نشاندہی کی تھی کہ کس طرح کچھ پولیس اہلکار ’سٹاپ اینڈ سرچ‘ کا غلط استعمال کر رہے ہیں۔ ایشیائی نژاد پولیس آفیسر امرتپال اپل کہتے ہیں کہ وہ امید کرتے ہیں وہ اس طرح کی تشویش کا ازالہ کرنے کی کوشش کریں گے۔

وہ کہتے ہیں کہ ’ہم نوجوانوں اور پولیس کے درمیان رکاوٹیں ختم کرنا چاہتے ہیں۔ ہم چاہتے ہیں کہ پولیس اور نوجوان لوگوں کے درمیان گفتگو ہو اور ہم چاہتے ہیں کہ ہمیں بتایا جائے کہ کہاں ہم بہتر کام کر رہے ہیں اور کہاں ہمارا کام اچھا نہیں۔‘

14 سالہ ملیحہ چاہتی ہیں کہ پولیس ان جیسوں کے تحفظ کے لیے مزید کچھ کرے۔ وہ حال ہی میں لندن منتقل ہوئی ہیں اور حجاب پہنتی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ انھیں متواتر ان کے حجاب کی وجہ سے نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ ’لوگوں نے مجھے برا بھلا کہا اور کہا کہ میں اپنے ملک واپس چلی جاؤں، مقامی طور پر میرے اور میری ماں کے اوپر کسی نے کار چڑھانے کی کوشش بھی کی۔‘

اسی بارے میں