قبرص حکام ہائی جیکر کو مصر کے حوالے کرنے پر تیار

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حکام نے اس شخص کا نام سیف الدین مصطفی بتایا ہے اور کہا ہے کہ وہ نفسیاتی طور پر غیر مستحکم ہیں

اطلاعات ہیں کہ قبرص کے حکام مصر کے ہوائی جہاز کو ہائی جیک کرنے والے شخص سیف الدین مصطفٰی کی مصر کو حوالگی کے لیے تیار ہو گئے ہیں۔

58 سالہ سیف الدین مصطفٰی نے مصری طیارے کو اغوا کرنے کے لیے نقلی خودکش جیکٹ کا استعمال کیا تھا۔

خبر رساں اے پی کے مطابق وہ اس وقت قبرص میں زیرِ حراست ہیں اور ان کی حوالگی کا معاملات جلد از جلد طے کیے جانے کا امکان ہے۔

مصطفی نامی یہ شخص ذہنی بیمار بتایا گیا ہے اور ان پر فضائی ڈاکہ زنی، اغوا اور دھمکی آمیز رویے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

قبرص کی پولیس کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملزم نے رضاکارانہ طور پر بیان دیتے ہوئے ہائی جیکنگ کا اعتراف کیا ہے۔

یہ واقعے کا محرک مصطفیٰ اور ان کی اہلیہ کے درمیان جھگڑے کو ٹھہرایا جا رہا ہے جو قبرص میں مقیم ہیں۔

سیف الدین مصطفیٰ کو قبرص کے شہر لارناکا کی ایک عدالت میں پیش کیا گیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption لارناکا ایئر پورٹ پہنچنے کے بعد ہائی جیکر نے تمام مسافروں کو رہا کر دیا تھا اور قبرص میں سیاسی پناہ اور اپنی سابقہ قبرصی بیوی سے ملنے کا مطالبہ کیا تھا

عدالت میں پیشی کے موقعے پر سیف الدین مصطفی خاموش رہے لیکن جب پولیس اہلکار انھیں واپس لے جا رہے تھے تو انھوں نے فتح کا نشان بنایا۔

مصر کی فضائی کمپنی ’ایئرایجپٹ‘ کی پرواز ایم ایس 181 کو مصر کے شہر سکندریہ سے قاہرہ جاتے ہوئے ہائی جیک کر لیا گیا تھا۔

ہائی جیکر کا کہنا تھا کہ وہ آتشیں مواد والی بیلٹ پہنے ہوئے ہے لیکن بعد میں پتہ چلا کہ ان کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے اور جسے وہ خود کش بیلٹ بتا رہے تھے وہ جعلی ہے اور اس میں کوئی میں آتشی مواد نہیں تھا۔

قبرص کے صدر نیکوس انسٹاسیاڈیس نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ طیارے کا ہائی جیک ہونا دہشت گردی کا واقعہ نہیں ہے بلکہ اس کا تعلق ایک عورت سے ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ epa

وزیر خارجہ ایونس کسولیڈیز کا کہنا تھا کہ مصطفیٰ قبرص نژاد اپنی سابقہ اہلیہ سے ملاقات کے خواہش مند تھے اور پولیس انھیں ایئر پورٹ لے کر آئی اور ان سے ملاقات کروائی گئی۔ تاہم بعد میں انھوں نے کئی دیگر مطالبات بھی پیش کرنے شروع کر دیے تھے۔

سکندریہ ایئرپورٹ کے ایک سینیئر اہلکار نے بتایا تھا کہ پرواز سے قبل جہاز میں آٹھ امریکی، چار برطانوی، چار ڈچ، دو بیلجیئن، ایک اطالوی اور 30 مصری شہری سوار ہوئے تھے۔

اس واقعے پر مصر کے ہوئے اڈے پر سکیورٹی کی لاپرواہی کے متعلق سوالات اٹھ رہے ہیں کہ آخر ایک ایک شخص اس طرح کی بیلٹ کے ساتھ، گرچہ وہ جعلی سہی، کیسے بآسانی جہاز میں سوار ہو سکا۔

مصر کے وزارت سیاحت نے اس واقعے کے بعد تمام ہوئی اڈوں پر سکیورٹی سخت کرنے کا اعلان کیا ہے۔

اسی بارے میں