آئس لینڈ کےنئے وزیرِ اعظم کی نامزدگی

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

آئس لینڈ کے حکمراں اتحاد نے موسمِ خزاں میں قبل از وقت ہونے والے انتخابات کے لیے یوگرڈر اینگی جوہانسن کو نئے وزیراعظم کے طور پر نامزد کیا ہے۔

53 سالہ جوہانسن زراعت اور ماہی گیری کے وزیر اور پروگریسو پارٹی (پی پی) کے نائب رہنما ہیں۔

پارٹی نے یہ قدم وزیراعظم اور پی پی کے چیئرمین سیگمندر گُنلاؤگسن کے پاناما پیپرز کے سامنے آنے کے بعد مستعفیٰ ہونے کے پس منظر میں اٹھایا ہے۔

پاناما قانونی فرم موساک فونسیکا کی دستاویزات میں یہ انکشاف ہوا تھا کہ گُنلاؤگسن اور اُن کی بیوی ایک آف شور کمپنی کے مالک تھے۔

جب وہ رکن پارلیمان منتخب ہوئے تھے اُس وقت اس کمپنی کے متعلق تفصیلات نہیں بتائی گئی تھیں۔ گُنلاؤگسن کا کہنا ہے کہ انھوں نے اپنے حصص اپنی بیوی کو فروخت کردیے تھے اور وہ کسی بھی غلط کام میں ملوث نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن اُن پر خاندانی اثاثوں کے لاکھوں ڈالرز مخفی رکھنے کا الزام ہے۔

گُنلاؤگسن اُن درجنوں نامور شخصیات میں سے ایک ہیں جن کے پہلی مرتبہ اتوار کی اشاعت میں ایک کروڑ پندرہ لاکھ مالیاتی اور قانونی ریکارڈز منظرِ عام پر آئے تھے۔

اس وقت سےگُنلاؤگسن پر استعفیٰ کےلیے دباؤ دیا جانے لگا۔ اور پیر کے روز دارالحکومت ریکجیوک میں پارلیمان کی عمارت کے باہر ہزاروں لوگوں نے احتجاج کیا اور اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے اعتماد کی تحریک بھی چلائی گئی۔

آغاز میں گُنلاؤگسن نے منگل کے روز صدر اولفر رانگر گریمسن کو پارلیمان تحلیل کرنے اور جلد انتخابات کا مطالبہ کیا تھا تاہم صدر نے کہا کہ انھیں سیاسی جماعتوں سے بات چیت کرنے کی ضرورت ہوگی۔

لیکن بعد میں بدھ کے روز جوہانسن نے کہا ’ہمیں اس موسمِ خزاں میں انتخابات کی اُمید ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ اس عرصے میں حکومت کو کام کرنا پڑے گا۔

انھوں نے کہا ’ہم ایک اچھی حکومت کے طور پر قیادت جاری رکھیں گے اور وہ تمام اچھے کام جو ہم گذشتہ تین سال سے کررہے ہیں جاری رہیں گے اور اُن تمام اچھے کاموں کو تکمیل تک پہنچائیں گے جو ہم شروع کرچکے ہیں۔‘

پائریٹ پارٹی کے رہنما برگیڈا جونسڈیٹیئر نے پارلیمان میں نامہ نگاروں کو یہ بھی بتایا کہ قبل از وقت انتخابات موسمِ خزاں میں منعقد کیے جائیں گے۔

گُنلاؤگسن نے ایک بیان جاری کیا ہے کہ وہ حقیقت میں مستعفیٰ نہیں ہوئے اور جوہانسن (غیر معینہ مدت کے لیے) اقتدار حاصل کرلیں گے۔

موساک فونیسکا سے لیک ہونے والے دستاویزات میں یہ معلوم ہوا ہے کہ گُنلاؤگسن اور اُن کی بیوی نے ونٹرس کمپنی سنہ 2007 میں خریدی تھی۔

جب وہ سنہ 2009 میں پارلیمان کا حصہ بنے تو انھوں نے کمپنی میں اپنے دلچسپی ظاہر نہیں کی تھے۔انھوں نے اپنے حصے کے 50 فی صد حصص ایک ڈالر میں اپنی بیوی اینا سیگورولیگ پالسڈیٹیور کو آٹھ ماہ قبل فروخت کیے تھے۔

گُنلاؤگسن نے قوانین نہیں توڑے اور اُن کی بیوی نے مالی فائدہ حاصل نہیں کیا۔

اپنے بیان میں گُنلاؤگسن نے کہا کہ اُن کی کوئی خواہش نہیں ہے کہ آنے والی حکومت کے مالیاتی نظام کی بہتری جیسے کسی بھی کام کی راہ میں حائل ہوں۔