جہاز کی سیٹیں مزید چھوٹی ہو سکتی ہیں

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption کچھ پروازوں میں خلل پڑا کیونکہ مسافروں کے بیچ سیٹوں پرجھگڑے اٹھ کھڑے ہوئے

امریکہ کی سینیٹ نے ایسے قانون کو مسترد کر دیا ہے جس کے تحت کمرشل ایئر لائنز کو مسافروں کے بیٹھنے کی گنجائش میں کم سے کم حد کی پابندی کرنا ہو گی۔

حالیہ کچھ برسوں کے دوران ایئر لائنز نے اخراجات میں کمی کرنے کے لیے جہاز میں سیٹوں کی چھوٹا کیا اور مسافروں کے لیے ٹانگیں پھیلانے کی جگہ (لیگ روم) کو کم کیا ہے۔

مسافر اکثر یہ شکایت کرتے ہیں کہ اب جہاز میں ان کے لیے بیٹھنے کی جگہ بہت تنگ ہو گئ ہے۔

بعض اوقات تو سیٹ کے معاملے پر مسافروں کی تکرار کی وجہ سے پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔

سینیٹ میں یہ ترمیم متعارف کروانے والے سینیٹر چک شومر کا کہنا تھا ’ہوائی جہاز میں بازوں اور پاؤں پھیلانے کے لیے الگ سے پیسے خرچ کرنے پڑتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ اس قانون کے تحت ایئر لائنز پر پابندی لگائی جا سکتی ہے کہ وہ سیٹوں کے سائز کو مزید کم نہ کریں اور نہ ہی ان کو کم آرام دہ بنائیں۔

دوسری جانب ایئرلائن کمپنیوں نے اس بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ’ یہ اقدام ہمیں دوبارہ سے رگیولیٹ کرنے کی کوشش ہے‘۔

اس ترمیم کے خلاف 54 افراد نے ووٹ دیے جبکہ اس کے حق میں 42 ارکین نے ووٹ دیے۔

سوائے ایک ممبر کی رپبلکین پارٹی کے تمام میمبران نے قانون کی مخالفت کی۔

اسی بارے میں