پاناما لیکس انکشافات پر’ کیمرون اعتماد کھو رہے ہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ PA

لیبر پارٹی نے ڈیوڈ کیمرون کی جانب سےاپنے والد کی آف شور کمپنی میں حصص رکھنے کےانکشاف کے بعد کہا ہے کہ وزیر اعظم اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔

منگل کو وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اُنھوں نے سنہ 2010 میں ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہونے سے قبل تمام حصص فروخت کر دیے تھے اور حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والے 30 ہزار برطانوی پاؤنڈ کی رقم پر عائد تمام ٹیکس بھی ادا کر دیے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان کے والد ایئن کمیرون نے بلیئرمور ہولڈنگ کمپنی ٹیکس سے بچنے کے لیے قائم نہیں کی گئی تھی۔

لیبر پارٹی کے رہنما ٹام واٹسن کا کہنا تھا کہ وزیراعظم نے اِسی طرح کے منصوبوں کے ذریعے سے سرمایہ کاری کرنے والے افراد کو ’اخلاقی طور پر غلط‘ قرار دیا تھا۔

کاروبار کے وزیر نِک بولز کا کہنا تھا کہ جب پیر کے روز یہ انکشافات پہلی بار سامنے آئے تھے تو وزیراعظم کو اپنے حصص کی تفصیلات جاری کرنی چاہیں تھیں۔

اُنھوں نے کہا کہ اہم نکتہ یہ تھا کہ وزیراعظم سے توقع کی جاتی ہے کہ اُنھوں نے تمام ٹیکس ادا کر دیے ہوں گے۔

*مزید جوابات

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption وزیر اعظم کو بہت سارے سوالوں کے جوابات دینے ہوں گے: نکولا سٹرجن

موساک فونیسکا کی دستاویزات منظر عام پر آنے کے بعد یہاں بلیئرمور ہولڈنگ کے حوالے سے کئی روز اخبار میں شہہ سرخیاں شائع کی گئی، یہ سرمایہ کاروں کے لیے ایک فنڈ تھا، جو کہ سنہ 2006 تک اپنے صارفین کی پرائیویسی کی حفاظت لیے’بیئرر شیئر‘ استعمال کرتی تھی۔

ڈاؤننگ سٹریٹ اور وزیر اعظم کیمرون کی جانب سے بلیئرمور ہولڈنگ میں حصہ داری کے حوالے سے چار بیانات جاری کیےگئے تھے جس کے بعد جمعرات کو اُنھوں نے آئی ٹی وی نیوز پر اپنے ذاتی حصص کا انکشاف کیا تھا۔

واٹسن کا کہنا ہے کہ کیمرون کو اُن کے والد کے عمل کا ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جاسکتا لیکن وزیر اعظم اپنے سابقہ مالیاتی انتظامات پر عوام سب سے سچ نہیں بول رہے ہیں۔

سکاٹش نیشنل پارٹی کی رہنما نکولا سٹرجن کا کہنا ہے کہ وزیراعظم کو ’کئی بڑے سوالوں کے جوابات‘ دینا ہوں گے۔ اُن کا کہنا تھا ٹیکس سے بچنے کے قواعد میں ’اصلاحات‘ کی ضرورت ہے۔

قانونی کمپنی سٹیفنسن ہاروڈ کے ماہر جیمز کورمبے نے بی بی سی ریڈیو فور کے پروگرام میں بتایا ہے کہ مسٹر کیمرون کی سرمایہ کاری کے حوالے سے ’بڑے پیمانے پر غلط فہمیاں‘ پائی جاتی ہیں۔

اُن کا کہنا ہے کہ یہ ایک ہیج فنڈ تھا اور اِس کو ٹیکس سے بچنے کے لیے استعمال نہیں کیا گیا ہوگا۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ مسٹر کیمرون کی جانب سے برطانیہ کی سٹاک مارکیٹ میں سرمایہ کاری کرنے جیسا ہی ہے۔‘

اِس معاملے پر کنزرویٹو جماعت کے ممبران پارلیمان بھی وزیراعظم کے ساتھ ہیں۔ وزیرخارجہ فلپ ہیمنڈ کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے ’ کافی مناسب طریقے سے کام کیا ہے‘ جبکہ مارک پرچرڈ کا کہنا تھا کہ اُن کے خاندان پر توجہ مرکوز کرنا ’بہت ناگوار‘ تھا۔

بولز نے بی بی سی کو بتایا کہ ٹیکس کی چوری ایک ’خوفناک چیز‘ تھی، لیکن کوئی بھی اِس حوالے سے بات نہیں کر رہا کہ وزیر اعظم نے تمام ادائیگیاں نہیں کی تھی، ’جو اُن کو برطانیہ کے قانون کے تحت کرنی تھی یا اُنھوں نے ٹیکس سے بچنے کے لیے کسی بھی چیز کا استعمال کیا ہو۔‘

اُن کا کہنا ہے کہ ’لوگوں کو ٹیکس بھرنا ہوتا ہے، اُنھیں اپنی نوکری یا سرمایہ کاری سے حاصل ہونے والی تمام رقم پر ٹیکس دینا ہوتا ہے اور مجھے اِس سے کوئی مسئلہ نہیں ہے کہ سرمایہ کاری کہاں کی گئی ہے۔ اور اسی سے فرق پڑتا ہے کہ لوگوں باقی رہ جانے والا ٹیکس ادا کریں۔ اور وزیراعظم نے یہ کیا ہے۔‘

مسٹر بولز نے ریڈیو فور کو بتایا کہ وہ سمجھ گئے ہیں کہ کیوں کیمرون ہفتے کے آغاز میں ’اپنے والد کے ماضی میں مداخلت‘ نہیں چاہتے تھے اور کاروباری سرگرمیوں کے بارے میں قیاس آرائی ’بڑھا‘ رہے تھے۔

*چھپانے کو کچھ نہیں

جمعرات کو آئی ٹی وی نیوز کو دیےگئے انٹرویو میں وزیراعظم کیمرون نے کہا تھا کہ ’میرے پاس چھپانے کو کچھ نہیں ہے۔ مجھے اپنے والد پر فخر ہے اور میں یہ نہیں دیکھ سکتا کہ اُن کا نام پر کیچڑ میں اچھالا جائے۔‘

کیمرون کا کہنا تھا کہ زیادہ تر تنقید ’غلط فہمی‘ کی بنیاد پر کی جا رہی ہے کہ بلیئرمور ٹیکس سے بچنے کے لیے قائم کی گئی تھی۔

اُن کا کہنا ہے کہ ’یہ نہیں تھا۔ ایکسچینج کنٹرول جانے کے بعد یہ کمپنی قائم کی گئی تھی، تاکہ جو لوگ ڈالر کے نام پر حصص اور کمپنیوں میں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں وہ یہ کرسکیں۔ اور اِس کے علاوہ اسی طریقے سے ہزاروں دیگر کمپنیاں بھی بنائی گئیں۔‘

اسی بارے میں