ملازمت پیشہ خواتین معیشت کے لیے فائدہ مند

تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption خواتین سے بلا معاوضہ لیے جانے والے کام میں کمی لانے کی بھی شدید ضرورت ہے

ایک تحقیق کے مطابق امریکہ میں دفاتر اور کام کرنے کی جگہوں پر صنفی مساوات کے فروغ کی وجہ سے امریکی معیشت میں سنہ 2025 تک 4.3 کھرب ڈالر تک اضافہ ہوسکتا ہے۔

مکنزی گلوبل انسٹی ٹیوٹ (ایم جی آئی) کی اس تحقیق کے مطابق زیادہ خواتین کو نوکریاں دینے سے معیشت کو بہت سہارا ملے گا۔

تحقیق کے مطابق اگر ملک میں خواتین کی نوکریوں کا تناسب 64 فیصد سے بڑھا کر 74 فیصد کردیا جائے تو اس سے 2.1 کھرب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ’صنفی عدم مساوات کے باعث انسانی مسائل جنم لے رہے ہیں۔ یہ نوکریوں، پیداواری صلاحیت، ملک کی مجموعی پیداوار کی شرح، اور عدم مساوات پر بھی بڑے پیمانے پر اثرانداز ہورہے ہیں۔‘

رپورٹ کے مطابق 2.1 کھرب ڈالر کا ہدف پورا کرنے کے لیے 64 لاکھ نئی نوکریوں کی گنجائش پیدا کرنے کی ضرورت ہے اور اس کے لیے کاروباری اداروں اور مقامی حکومتوں کو تقریباً 475 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنی پڑے گی۔

خیال رہے کہ یہ تعداد ایک کروڑ نوکریوں کے علاوہ ہے جن کے لیے کہا گیا ہے کہ سنہ 2025 تک ان کی گنجائش پیدا کی جائے۔

گذشتہ تین سالوں میں امریکی معیشیت نے 20 لاکھ سے زائد نوکریوں کے مواقع پیدا کیے ہیں۔ تاہم ان میں زیادہ تر نوکریاں کم تنخواہ والی ہیں۔

حکومت کی جانب سے لاگو کیے جانے والے مساواتی پروگراموں کے مخالفین اکثر نئے ضابطوں کے کاروبار پر پڑنے والے اثرات کی جانب اشارہ کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

مکمل اقتصادی فوائد حاصل کرنے کے لیے خواتین کو زیادہ تنخواہوں والی مستقل نوکریوں تک پہنچنے کی ضرورت ہے۔ خواتین امریکہ کی کل افرادی قوت کا 46 فیصد ہیں جبکہ اس وقت سالانہ مجموعی ملکی پیداوار میں ان کا محض پانچواں حصہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption لنڈا گیٹس نے بلا معاوضہ کام کے اثرات پر روشنی ڈالی اور اسے ’معاشرے کی چُھپی ہوئی قیمت‘ سے تعبیر کیا

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ زیادہ خواتین کے لیے سربراہی اور انتظامی کردار ادا کرنے کے مواقع پیدا کرنے اور اعلیٰ ہنرمند عہدوں کے لیے ان کی تربیت کرنے کی صورت میں معیشیت میں ان کے کردار میں اضافہ ہوگا۔

خواتین سے بلا معاوضہ لیے جانے والے کام میں کمی لانے کی بھی شدید ضرورت ہے۔

سنہ 1965 سے سنہ 2010 کے دوران افرادی قوت میں خواتین کی شراکت کی شرح میں اضافہ ہوا ہے تاہم وہ وقت جو خواتین بچوں کی دیکھ بھال پر بلامعاوضہ خرچ کرتی ہیں اس میں بھی تین گنا اضافہ ہوا ہے۔

رواں سال فروری میں انسان دوست (فلنتھروپسٹ) ملنڈا گیٹس نے بلا معاوضہ کام کے اثرات پر روشنی ڈالی اور اسے ’معاشرے کی چُھپی ہوئی قیمت‘ سے تعبیر کیا ہے۔

رواں ہفتے منگل کے روز سان فرانسسکو والدین کے لیے مکمل تنخواہ کے ساتھ چُھٹیوں کا قانون پاس کرنے والا امریکہ کا پہلا شہر بن گیا ہے۔

مجوزہ تحقیق کے مصنف نے حکومت سے کہا ہے کہ وہ مکمل تنخواہ کے ساتھ والدین کی چھٹیوں اور بچوں کی نگہداشت بہتر بنانے کے لیے کام کریں۔

تحقیق میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ کاروباری اداروں کو چاہیے کہ صنفی تنوع کو فروغ دینے کے لیے وہ نوکریاں دینے اور کارکردگی کا جائزہ لینے کے طریقہ کار کو استعمال میں لائیں۔

رپورٹ میں مصنف نے اس بات کو تسلیم کیا ہے کہ 4.2 کھرب ڈالر کا ہدف پورا کرنا بہت ہی مشکل ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ’افرادی قوت میں صحیح طریقے سے حصہ لینے میں حائل رکاوٹوں کے باعث بہت مشکل ہے کہ اگلی ایک دہائی میں مکمل صنفی مساوات کا ہدف حاصل کیا جاسکے۔‘

گذشتہ سال ستمبر میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں ایم جی آئی کا کہنا تھا کہ اگر دنیا بھر میں صنفی مساوات قائم ہونے سے بین الاقوامی معیشت میں 12 کھرب ڈالر کا اضافہ ممکن ہے۔

اسی بارے میں