ماحولیاتی اثرات سے نمٹنے کے لیے عالمی بینک کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption سنہ 2020 تک 30 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی سے 15 کروڑ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے

عالمی بینک نے ترقی پذیر ممالک میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کو کم کرنے کی غرض سے قابل تجدید توانائی کے ذرائع اور ماحول دوست منصوبوں کے لیے امداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔

عالمی بینک کا کہنا ہے کہ وہ سال 2020 تک اس ضمن میں تین ارب 50 کروڑ ڈالر مالیت تک کے فنڈ جاری کرے گا۔

گذشتہ سال دسمبر میں اقوام متحدہ کے زیر اہتمام پیرس میں ہونے والے ماحولیاتی اجلاس کے معاہدے کے تحت بین الاقوامی گرڈ میں 30 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی شامل کرنے پر رضا مندی ظاہر کی گئی تھی۔ ان منصوبوں کے لیے فنڈ کی ضرورت ہے۔

سنہ 2020 تک 30 گیگا واٹ قابل تجدید توانائی سے 15 کروڑ گھروں کو بجلی فراہم کی جاسکتی ہے۔

عالمی بینک کے صدر جِم یونگ کِم نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ’پیرس کے ماحولیاتی معاہدے کے بعد ضروری ہے کہ اگلی نسلوں کے لیے اس سیارے کو محفوظ بنانے کے لیے ہم جرّات مندانہ اقدامات اٹھائیں۔‘

’ہم کاربن سے پیدا ہونے والی توانائی میں کمی، ماحول دوست ذرائع نقل وحمل، اور شہری آبادی میں اضافے کے پیش نظر رہنے کے قابل پائیدار شہروں کی تعمیر کے لیے ممالک کی فی الفور مدد کی غرض سےآگے بڑھ رہے ہیں۔‘

معاہدے میں شامل دیگر تجاویز میں نقل و حمل کے نظام کو ماحول دوست بنانے کے لیے اگلے پانچ سالوں میں امداد میں چار گنا اضافے کی تجویز بھی شامل ہے۔

نجی شعبے کے لیے خدمات انجام دینے والی عالمی بینک کی ایک شاخ، انٹرنیشنل فنانس کارپوریشن، اس منصوبے میں معاونت کے لیے اپنی سالانہ سرمایہ کاری کی حد دو ارب 20 کروڑ ڈالر سے بڑھا کر تین ارب 50 کروڑ ڈالر تک لے جائے گی۔

بیان کے مطابق عالمی بینک اپنی سرمایہ کاری کے علاوہ اگلے پانچ سالوں کے دوران صاف توانائی کے لیے تجارتی سرمایہ کاری کے لیے 25 ارب ڈالر مہیا کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔

اسی بارے میں