ٹیسٹ کےذریعےآرچ بشپ کےحقیقی والد کا انکشاف

تصویر کے کاپی رائٹ ReutersRex
Image caption اس ٹیسٹ کے بعد 99 فیصد امکانات ہیں کہ سر اینتھونی جسٹن ویلبے کے والد تھے

آرچ بشپ آف کینٹربری کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ کے نتیجے میں ان کے حقیقی والد کی شناخت ’مکمل طور پر حیران کن‘ ہے۔

سب سے زیادہ محترم سمجھے جانے والے 60 سالہ جسٹن ویلبے کو معلوم ہوا ہے کہ ان کے حقیقی والد سر ونسٹن چرچل کے آخری پرائیویٹ سیکریٹری سر اینتھونی مونٹیگ براؤن تھے۔

اس سے قبل ان کے خیال میں ان کے والد وسکی فروخت کرنے والے گیون ویلبے تھے جن کا انتقال سنہ 1977 میں ہوا تھا۔

آرچ بشپ کی والدہ لیڈی ولیئم آف ایلول نے تصدیق کی ہے کہ سنہ 1955 میں شادی ہونے سے قبل ان کے سر اینتھونی کے ساتھ ’روابط‘ تھے۔

لیڈی ولیئمز نے کہا کہ ’یہ خبر حیران کن طور پر صدمے کی طرح سامنے آئی ہے۔‘

اس وقت کے بارے میں انھیں اچھی طرح تو کچھ یاد نہیں لیکن انھوں نے کہا کہ ’اپنے سابق ساتھی سر اینتھونی کے ساتھ سونے کی وجہ دونوں کی جانب سے اس وقت شراب کا زیادہ استعمال تھی۔‘

آرچ بشپ ویلبی ایک سینیئر مذہبی پیشوا ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ انھیں اپنے حقیقی والد کے بارے میں حالیہ ہفتوں میں معلوم ہوا ہے۔

برطانوی روزنامے دی ڈیلی ٹیلی گراف کے مطابق جب آرچ بشپ سے ان کے خاندانی پس منظر کے بارے میں تحقیق کے حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انھوں نے اپنا ڈی این اے ٹیسٹ کروانے کا فیصلہ کیا۔

Image caption ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں لیڈی ولیئمز نے کہا کہ یہ بہت حیران کن ہے

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سر اینتھونی کی بیوہ نے اپنے خاوند کے کنگھے کو محفوظ کر رکھا تھا جس پر سے حاصل کردہ سر اینتھونی کے بالوں کے نمونوں کا جسٹن ویلبے کے لعاب دہن سے موازنہ کیا گیا۔

اس موازنے کے نتیجے میں یہ بات سامنے آئی کہ ان دونوں کے باپ بیٹے ہونے کے 99 فیصد امکانات موجود ہیں۔

ٹیلی گراف کے سابق مدیر چارلز موور جنھوں نے سب سے پہلے یہ خبر دی تھی کا کہنا ہے کہ ’آرچ بشپ کو جب ڈی این اے ٹیسٹ کے بارے میں معلوم ہوا تو بہت زیادہ حیران ہوئے۔‘

’تاریخوں کو دیکھتے ہوئے تو یہ ناممکن لگ رہا تھا کیونکہ ان کی پیدائش ان والدہ کی گیون ویلبے سے شادی کے نو ماہ بعد ہوئی۔ لہذا یہ سوچنا فطری تھا کہ وہ ایک ہنی مون بے بی ہیں۔‘

انھوں نے ریڈیو 4 کے پروگرام میں کہا کہ ’معلوم ہوا ہے کہ لیڈی ولیئمز نے سر اینتھونی کے ساتھ ہم بستری گیون ویلبے سے شادی سے قبل کی۔‘

اسی بارے میں