برسلز حملے: ’ٹوپی پہنے ہوئے میں ہی تھا‘ ابرینی کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ CCTV
Image caption محمد ابرینی پر گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام تھا اور اس سلسلے میں وہ مطلوب تھے

بیلجیئم میں فیڈرل استغاثہ کے مطابق جمعے کو برسلز سے گرفتار ہونے والے مبینہ دہشت گرد نے تسلیم کیا ہے کہ وہ برسلز ایئرپورٹ پر خودکش بمباروں کے ہمراہ ’ٹوپی میں دکھائی دینے والا شخص‘ ہے۔

برسلز حملوں میں ملوث مبینہ ملزم کی ویڈیوبرسلز ائیرپورٹ پر پروازوں کی بحالی

محمد ابرینی نے تفتیش کاروں کو بتایا ہے کہ وہ 22 مارچ کو ہونے والے حملوں کے وقت وہاں موجود تھے۔

محمد ابرینی پر گذشتہ سال نومبر میں پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث ہونے کا بھی الزام تھا اور اس سلسلے میں وہ مطلوب تھے۔

وہ ان چھ افراد میں شامل ہیں جنھیں جمعے کو برسلز سے حراست میں لیا گیا تھا۔ جن میں سے چار پر دہشت گردی کے الزامات لگے ہیں۔

برسلز کے ہوائی اڈے اور میٹرو سٹیشن پر ہونے والے حالیہ حملوں میں 32 افراد ہلاک ہوئے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ belgium police
Image caption ابرینی جن کی عمر 31 برس ہے وہ موروکو سے تعلق رکھتے ہیں

حکام کا خیال ہے کہ برسلز اور پیرس میں ہونے والے حملوں میں ملوث نیٹ ورک کے پیچھے خود کو دولتِ اسلامیہ کہنے والی تنظیم کا ہاتھ ہے۔

ابرینی جن کی عمر 31 برس ہے وہ موروکو سے تعلق رکھتے ہیں۔ فیڈرل استغاثہ کے بیان کے مطابق ابرینی نے اعتراف کیا ہے کہ ٹوپی میں موجود شخص وہی تھے۔

ان کا کہنا ہے کہ حملے کے بعد انھوں نے اپنی جیکٹ کوڑے دان میں پھینک دی تھی اور ٹوپی کو بیچ دیا تھا۔

تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ ابرینی کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے برسلز میں دو سیف ہاؤسز اور ایک گاڑی سے ملے تھے۔

دیگر مشتبہ افراد جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں اسامہ کے، ہرو بی این اور بلال ای ایم شامل ہیں۔ ان سب پر برسلز دھماکوں سے جڑے دہشت گردانہ اقدامات میں حصہ لینے کا الزام ہے۔

جمعے کو ہی گرفتار ہونے والے دو اور افراد کو رہا کر دیا گیا ہے۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ اسامہ کے کا تعلق سویڈن سے ہے اور ان کا نام اسامہ کریم ہے۔ انھیں ملبیک میٹرو پر حملے سے پہلے خودکش بمباروں کے ہمراہ دیکھا گیا تھا۔

بتایا گیا ہے کہ اسامہ نے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے بمباروں کے لیے بیگ بھی خریدے تھے۔

اسی بارے میں