ماں نے ڈیوڈ کیمرون کو دو لاکھ پاؤنڈ تحفے میں دیے تھے

ڈیوڈ کیمرون اور ان کی ماں
Image caption ڈیوڈ کیمرون نے کہا ہے کہ وہ اس معاملے میں بہتر انداز سے نمٹ سکتے تھے

برطانیہ کے وزیرِاعظم ڈیوڈ کیمرون کے اکاؤنٹس کے مطابق ان کی والدہ نے ان کے والد کے انتقال کے بعد انھیں دو لاکھ پاؤنڈ تحفے میں دیے تھے جس سے ممکنہ طور پر وراثتی ٹیکس سے بچا جا سکتا ہے۔

نجی اثاثے کی وجہ سے پیدا ہونے والے تنازعے کو کم کرنے کے لیے برطانوی وزیرِ اعظم نے 2009 سے لے کر 2015 تک اپنے ٹیکس کی تفصیلات جاری کیں۔ ایسا کسی بھی برطانوی وزیرِ اعظم کی طرف سے پہلی مرتبہ کیا گیا ہے۔

کاغذات کے مطابق 2010 میں اپنے والد کی طرف سے وراثت میں ملنے والے تین لاکھ پاؤنڈز کے ایک سال کے بعد انھیں اپنی والدہ کی جانب سے دو لاکھ پاونڈ کی رقم دو اقساط میں دی گئی۔

ڈیوڈ کیمرون نے سنہ 2014 اور 2015 کے دوران ادا کیے جانے والے ٹیکس کی تفصیلات بھی جاری کیں۔

*پانامہ لیکس:ڈیوڈ کیمرون سے مستعفی ہونے کا مطالبہ

تفصیلات کے مطابق انھوں نے گذشتہ دو برس کے دوران کمائی جانے والی دو لاکھ پاؤنڈ آمدن پر 76 ہزار پاؤنڈ ٹیکس ادا کیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جمعرات کو اُنھوں نے ایک برطانوی نیوز چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے والد کی آف شور کمپنی میں اپنے ذاتی حصص کا انکشاف کیا تھا

ڈیوڈ کیمرون کی آمدن کے بارے میں جاری کی گئی تفصیلات کے مطابق لندن میں اپنے آبائی گھر کے کرائے کے 46 ہزار 899 پاؤنڈ کا 50 فیصد حصہ بھی انھیں ملا۔

برطانوی وزیراعظم کی جانب سے یہ تفصیلات پاناما لیکس میں اپنے والد کی آف شور کمپنی کےحوالے سے پیدا ہونے والےتنازعے کے بعد جاری کی گئی ہیں۔ یہ تفصیلات جاری کرنے سے پہلے انھوں نے اپنے بارے میں کہا تھا کہ وہ اسے بہتر انداز میں نمٹا سکتے تھے لیکن وہ اب ’ اس سے سبق سیکھیں گے۔‘

ڈیوڈ کیمرون نے اعتراف کیا ہے کہ رواں ہفتہ ان کے لیے خاصا مشکل رہا ہے۔

برطانوی وزیرِاعظم کا اپنی جماعت کے کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اپنے والد کی آف شور کمپنی میں اپنے حصص کے معاملے کو جس انداز میں نمٹاگیا اس کے ذمہ دار وہ خود ہیں۔

رواں ہفتے پانامہ لیکس یعنی موساک فونیسکا کی دستاویزات کےمنظر عام پر آنے کے بعد برطانوی وزیراعظم نے اعتراف کیا تھا کہ ان کے والد کی جانب سے بنائی گئی ایک آف شور کمپنی میں ان کے حصص بھی تھے۔

ڈیوڈ کیمرون کا کہنا تھا کہ ’ مجھے معلوم ہے کہ اس سارے معاملے سے سبق سیکھنے کی ضرورت ہے۔‘

برطانوی وزیرِاعظم کا مزید کہنا تھا کہ ’ تمام صورتحال کا میں خود ذمہ دار ہوں اس کے لیے میرے مشیران کو موردِ الزام نہیں ٹھہرایا جاسکتا۔‘

خیال رہے کہ وزیراعظم ڈیوڈ کیمرون پر اس ضمن میں مختلف حلقوں کی جانب سے شدید تنقید کی گئی ہے۔

حزب اختلاف کی جماعت لیبر نے ڈیوڈ کیمرون کی جانب سےاپنے والد کی آف شور کمپنی میں حصص رکھنے کےانکشاف کے بعد کہا تھا کہ وزیر اعظم اپنا اعتماد کھو رہے ہیں۔

منگل کو وزیر اعظم نے کہا تھا کہ اُنھوں نے سنہ 2010 میں ٹین ڈاؤننگ سٹریٹ میں داخل ہونے سے قبل تمام حصص فروخت کر دیے تھے اور حصص کی فروخت سے حاصل ہونے والے 30 ہزار برطانوی پاؤنڈ کی رقم پر عائد تمام ٹیکس بھی ادا کر دیے تھے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ان کے والد ایئن کمیرون نے بلیئرمور ہولڈنگ کمپنی ٹیکس سے بچنے کے لیے قائم نہیں کی تھی۔

ڈاؤننگ سٹریٹ اور وزیر اعظم کیمرون کی جانب سے بلیئرمور ہولڈنگ میں حصہ داری کے حوالے سے چار بیانات جاری کیےگئے تھے جس کے بعد جمعرات کو اُنھوں نے ایک برطانوی نیوز چینل کے ساتھ بات کرتے ہوئے اپنے والد کی آف شور کمپنی میں اپنے ذاتی حصص کا انکشاف کیا تھا۔

اسی بارے میں