معاہدے کے بعد تارکین وطن کی ’پہلی ہلاکتیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption کشتی میں موجود پانچ افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ پانچ کی تلاش جاری ہے

یونانی جزیرے ساموس کے قریب تارکینِ وطن کی کشتی الٹنے کے نتیجے میں چار خواتین اور ایک بچہ ہلاک ہوا ہے۔

خیال کیا جا رہا ہے کہ ترکی کے ساتھ یورپی یونین کے معاہدے کے بعد جو کہ پیر کو نافذ العمل ہوا تھا یہ پہلی ہلاکتیں ہیں۔

45 پاکستانیوں سمیت پناہ گزینوں کی ترکی آمد

بتایا گیا ہے کہ کشتی میں موجود پانچ افراد کو بچا لیا گیا ہے جبکہ پانچ کی تلاش جاری ہے۔

یاد رہے کہ رواں ہفتے درجنوں تارکینِ وطن ترکی واپس پہنچے تھے۔ تاہم یورپی یونین اور ترکی کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروہوں نے بہت تنقید کی ہے۔

زندہ بچ جانے والوں نے حکام کو بتایا کہ وہ پلاسٹک کی بنی کشتی پر سوار تھے جو ساڑھے گیاہ فٹ لمبی تھی۔

گذشتہ روز 120 افراد کو لے کر ایک کشتی مغربی ترکی میں یونان سے پہنچی تھی جس میں زیادہ تر تعداد پاکستانی تارکینِ وطن کی تھی۔

ترکی اور یورپی یونین میں جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق 20 مارچ کے بعد غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے کسی بھی ایسے شخص کو جس نے پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست نہ دی ہو یا پھر اس کی درخواست مسترد کر دی گئی ہو، ترکی واپس بھیج دیا جائے گا۔

معاہدے کے تحت ایک شامی باشندے کو جسے یونان سے ترکی واپس بھیجا جائےگا اس کے بدلے میں یورپی یونین اس شامی پناہ گزین کو قبول کرے گی جس نے قانونی طور پر اس کی درخواست دی ہوگی۔

رواں سال مارچ میں معاہدہ طے پانے کے بعد سے تقریباً 400 افراد روزانہ یونان کے جزیروں پر پہنچ رہے ہیں۔

شمالی یورپ کے ممالک کی جانب سے اپنی سرحدیں بند کرنے کے بعد ہزاروں افراد یونان میں پھنس گئے ہیں جبکہ خیمہ بستیوں میں سہولیات کے فقدان کے باعث جھڑپوں کے واقعات بھی پیش آئے ہیں۔

گذشتہ سال سے اب تک بذریعہ کشتی دس لاکھ پناہ گزین ترکی سے یورپ میں داخل ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں