واشنگٹن ڈائری:اوباما نےمودی کو کیا کہا؟

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption میڈیا والے اس تصویر پر قیاس آرائیاں کر رہے تھے، پاکستانی میڈیا والے مذاق کر رہے تھے کہ ضرور نواز شریف کی شکایت ہو رہی ہوگی

وائٹ ہاؤس میں گذشتہ ہفتے دنیا کے پچاس سے زیادہ ممالک کے رہنما جب ڈنر کرنے بیٹھے تو اوباما جی کے پاس والی کرسی مودی جی کو دی گئی۔ اور ان دونوں کی کیمسٹری کا تو آپ کو پتہ ہی ہے۔ ایک پل میں ہی دونوں سر جوڑ کر سرگوشی کرنے لگے۔

ظاہر ہے میڈیا والوں کے پیٹ میں درد ہوا۔ پاکستانی میڈیا والے مذاق کر رہے تھے کہ ضرور نواز شریف کی شکایت ہو رہی ہوگی، انڈین میڈیا والے کہہ رہے تھے کہ مودی پوچھ رہے ہوں گے ۔۔ ’کہیں دورے وورے پر جا رہے ہو یا نہیں؟ میں نے تو تمہارا ساڑھے سات برس کا ریکارڈ دو سال میں ہی توڑ دیا ہے۔‘

پتہ تو کسی کو نہیں چل پایا کہ دونوں ہی رہنماؤں میں کیا باتیں ہوئیں، تو چلیے تھوڑی سی پتنگ بازی ہم بھی کر لیتے ہیں۔

دونوں میں کچھ ایسی بات چیت رہی ہوگی۔

نریندر مودی ۔۔۔ تو گرو اب تو بس گنے چنے دن رہ گئے ہیں وائٹ ہاؤس میں؟ بھارت کا ایک اور چکر چاہو تو لگا لو۔ پندرہ اگست کو مہمان بن کر آ جاؤ، من کی بات کریں گے، سیلفی، ویلفی لیں گے۔ مزہ آئے گا۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ان دونوں رہنماؤں کی کیمسٹری کا تو آپ کو پتہ ہی ہے، ایک پل میں ہی دونوں سر جوڑ کر سرگوشی کرنے لگتے ہیں

براک اوباما (بو)۔۔۔ ارے نہیں ابھی ابھی تو کیوبا اور ارجنٹائن کی طرف سے لوٹا ہوں۔ ذرا وہاں رقص کر لیا تو لوگوں کی سلگ رہی ہے۔ اور ابھی تو سعودی عرب، برطانیہ اور جرمنی کے دورے پر جا رہا ہوں۔

مودی۔۔۔ (اور قریب جا کر) تو کون آ رہا ہے تمہارے بعد؟ اپنی ہیلری جیت جائے گی نا؟ کہو تو انتخابی مہم کے لیے آ جاؤں۔ جان ڈال دوں گا۔

بو ۔۔۔۔ دیكھو امید تو ہے۔ ویسے کہیں ٹرمپ رپبلكن امیدوار بن گیا تو کچھ نہیں کہا جا سکتا۔

مودی ۔۔۔ ہاں کافی سنا ہے اس کے بارے میں۔ میری تعریف بھی کر رہا تھا کہیں پر اور میرا نعرہ بھی چرا لیا ہے اس نے۔ میں نے کہا تھا ’اچھے دن آئیں گے‘ وہ کہہ رہا ہے ’امریکہ کو پھر سے عظیم بنائے گا۔‘

بو۔۔ ہاں تم دونوں کی سوچ بھی کافی ملتی جلتی ہے۔ تمہاری طرح ہی وہ بھی راک سٹار ہے، شو مین ہے بس تمہاری طرح اپنے نام کی کڑھائی والا سوٹ نہیں پہنتا ہے۔ (زور سے ہنستے ہیں۔)

مودی۔۔۔ آپ بھی میری ٹانگ کھینچ لو۔ وہ بیوقوف ڈیزائنر کے چکر میں پڑ گیا تھا میں، لیکن دیکھ لو اس کی نیلامی سے بھی میں نے پیسے کما لیے۔ تمہاری طرح تھوڑی کہ پاکستان پر پیسے لٹاتا رہوں اور بدلے میں وہاں سے دھیلا بھی نہ ملے۔ تمہارے پاس تو کوئی بزنس سینس ہے ہی نہیں!

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بو ۔۔۔ ہا ہا، ٹرمپ بھی یہی کہتا ہے میرے بارے میں۔ میں تو کہہ ہی رہا تھا کہ تم دونوں کی خوب جمےگی۔ دوسرے بھی بہت سے معاملات ہیں جس میں تم دونوں کی فکر ملتی جلتی ہے اور سنا ہے امریکہ میں تمہارے بہت چاہنےوالے ٹرمپ کو سپورٹ بھی کر رہے ہیں۔

مودی۔۔۔۔۔ اچھا وہ رہنے دو۔ یہ برنی سینڈرز کیا چیز ہے؟ نہ کپڑے پہننے کا سلیقہ، بال کہاں جا رہے ہیں کچھ پتہ نہیں۔ (اپنے بال اور داڑھی پر ہاتھ پھیرتے ہیں)۔

بو۔۔۔۔۔ ہاں کچھ کچھ تمہارے کیجریوال جیسا ہے، صرف مفلر نہیں لپیٹتے ہیں۔

مودی۔۔۔۔۔ کیجریوال جیسا ہے تب تو میرے لیے مصیبت پیدا کرے گا۔ بجلی، پانی مفت دینے کا اعلان کرے گا، بزنس والوں کے خلاف بولے گا اور کرے گا دھرےگا کچھ بھی نہیں۔

بو۔۔۔۔۔ سینڈرز بھی سب کچھ مفت دینے کی بات کر رہا ہے۔ ہیلتھ فری، ایجوکیشن فری، وال سٹریٹ توڑو، نوکریاں واپس لے آؤ۔ آپ تو جانتے ہی ہو یہ سب باتیں انتخابات میں کہنے کو اچھی ہوتی ہیں، میں نے بھی کہیں، تم نے بھی کہیں لیکن کرنا کتنا مشکل ہوتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP

مودی۔۔۔۔ ارے ہاں میں نے بھی کہا تھا کہ بیرون ملک سے سارا کالا دھن واپس لے آؤں گا، لیکن گلے کی ہڈی بن گیا ہے۔

بو۔۔۔۔۔ مشکل یہ ہے کہ سینڈرز میں اس كیپٹلسٹ ملک میں سوشلسٹ پالیسی کی بات کر رہا ہے۔ اندر سے میں بھی سوشلسٹ تھا اور ہوں بھی، لیکن انتخابات کے وقت تو مجھے کھل کر کہنا پڑا تھا کہ میں سوشلسٹ نہیں ہوں۔ ورنہ یہاں کبھی جیت سکتا تھا؟ یہ تو کھل کر کہہ بھی رہا ہے کہ وہ سوشلسٹ ہے اور یہ بیوقوف کالج میں پڑھنے والے نوجوان کھنچے چلے آتے ہیں اس کی ریلیوں میں۔ یہاں کوئی سوشلسٹ کبھی نہیں جیت سکتا۔

مودی۔۔۔ ارے ان نوجوانوں کی تو بات ہی مت کرو۔ یہ تو فون میں گھسے رہتے ہیں یا پھر جو بھی خواب دکھانے لگے اس کے پیچھے ہو لیتے ہیں۔ تمہاری ریلیوں میں بھی کتنے نوجوان آتے تھے۔ میری ریلیوں میں بھی پورے جوش میں نظر آتے تھے یہ لوگ اور سوشل میڈیا پر میرے خلاف ایک بات بھی نہیں سن سکتے۔

بو۔۔۔۔۔ سینڈرز کے چاہنےوالوں کا بھی یہی حال ہے، ایک دم بھکت بن گئے ہیں۔ مودی۔۔۔۔۔ بھکت؟ بو۔۔۔۔۔ ہا ہا ہا۔

تصویر کے کاپی رائٹ JIM BOURG REUTERS

مودی۔۔۔۔ ٹھیک ہے، ٹھیک ہے! ۔۔۔۔ چلو رہنے دو اب ذرا نیوکلیئر سیوكلیئر کی بات کر لیتے ہیں۔ ویسے بھی تم پاکستان کا کچھ کرو گے تو ہے نہیں، لمبی لمبی باتیں کرو گے۔ جھیلنا تو ہمیں پڑتا ہے۔ سنا ہے اور ہیلی کاپٹر بھی دے رہے ہو۔

بو۔۔۔۔ ارے آپ بھی کہاں کی لے کر بیٹھ گئے۔ وہ دیکھو چین والے ہمیں گھور رہے ہیں۔

تو جناب، اس کے بعد تقریروں کا دور شروع ہو گیا۔ اور ہاں آپ مودی جی، اوباماجی، كیجریوال جی، ٹرمپ جی، سینڈڑز جی، ہیلری جی کسی کے بھی بھکت ہوں، میری باتوں کا برا مت مانیےگا۔ یہ تو بس یوں ہی آپ کے ساتھ بیٹھ کر تھوڑی چٹکی لے لی۔

اسی بارے میں