’حملہ آوروں کا منصوبہ فرانس کو ہی دوبارہ نشانہ بنانے کا تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ reuters
Image caption پیرس میں 13 نومبر کو فائرنگ اور بم حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے

برسلز حملوں میں ملوث ہونے کے شبہ میں گرفتار محمد ابرینی نے اعتراف کیا ہے کہ وہ پہلے فرانس ہی کو دوبارہ نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے لیکن ساتھی صالح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد انھوں نے فرانس کے بجائے برسلز میں حملے کرنے کا فیصلہ کیا۔

گزشتہ ماہ برسلز میں کیے گئے حملوں کے بعد بیلجیم بھر میں بڑے پیمانے پر چھاپے مارے جا رہے تھے۔جس کے نتیجے میں گزشتہ روز برسلز حملوں کے انتہائی مطلوب ملزم محمد ابرینی سمیت چھ افراد کی گرفتاری عمل میں آئی جن میں سے چار پر بمباروں کو معاونت کے الزامات ہیں۔ جبکہ دو کو تفتیش کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ ابرینی جن کی عمر 31 برس ہے وہ مراکش سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ گزشتہ برس نومبر میں فرانسیسی دارالحکومت پیرس میں ہونے والے دہشت گرد حملوں کے بھی مشتبہ ملزم ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ابرینی نے بتایا کہ انھوں نے جیکٹ کوڑے میں پھینک دی اور ٹوپی بیچ دی تھی

تفیش کے دوران محمد ابرینی نے بتایا کہ وہ تیسرے خود کش بمبار تھے جو حملہ کی غرض سے ہوائی اڈے آئے تھے لیکن حملہ کیے بغیر موقع سے فرار ہوگئے۔

بیلجیئم کے پراسیکیوٹر کے بیان کے مطابق ابرینی نے اعتراف کیا ہے کہ برسلز کے ہوائی اڈے پر ہونے والے حملوں کی فوٹیج میں ٹوپی پہنے ہوئے دکھائی دینے والا شخص وہی ہیں۔ انھوں نے مزید کہا کہ دھماکوں کے بعد انھوں نے اپنی جیکٹ کوڑے دان میں پھینک دی تھی اور ٹوپی کو بیچ دیا تھا۔ تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ ابرینی کے فنگر پرنٹس اور ڈی این اے برسلز میں دو سیف ہاؤسز اور ایک گاڑی سے ملے ہیں جو پیرس حملوں کے دوران ان کے زیر استعمال رہی۔

میڈیا رپورٹس کے مطابق تفتیش کاروں نے بتایا ہے کہ دیگر مشتبہ افراد جن پر الزامات عائد کیے گئے ہیں ان میں اسامہ کے، ہروی بی این اور بلال ای ایم شامل ہیں۔ مزید بتایا گیا کہ اسامہ کے کا تعلق سویڈن سے ہے اور ان کا نام اسامہ کریم ہے۔ انھیں ملبیک میٹرو پر حملے سے پہلے خودکش بمباروں کے ہمراہ دیکھا گیا تھا۔ یہ بھی بتایا گیا ہے کہ اسامہ نے ہوائی اڈے پر حملہ کرنے والے بمباروں کے لیے بیگ بھی خریدے تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption صلاح عبدالسلام کی گرفتاری کے بعد منصوبے میں تبدیلی لائی گئی تھی

ادھر اسامہ کے خاندان والوں کا کہنا ہے کہ اسامہ شام چلا گیا تھا اور پھر کچھ تصاویر بھیجی تھیں جن میں اس کے ہاتھوں میں بندوق دیکھی جا سکتی تھی۔

اس کی ایک رشتہ دار نے بتایا کہ ’وہ اچانک گھر سےغائب ہوگیا کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔ جب اس نے بیرون ملک سے فون کیا اور بتایا کہ میں دولت اسلامیہ کے ساتھ ہوں اور میں واپس نہیں آؤنگا۔‘

اس سے قبل برسلز میں ایک نیوز کانفرنس کے دوران بات کرتے ہوئے بیلجیم کے وزیراعظم چارلس مائیکل نے کہا کہ تحقیقات کے مثبت نتائج آ رہے ہیں تاہم کوتاہی کی کوئی گنجائش نہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption حملہ آور پولیس کے ان کے قریب آنے پر حیران تھے

’بے شک حالیہ تحقیقات میں ہونے والی پیشرفت مثبت ہیں اور اس مثبت کارروائی کے لیے ہم اپنے سکیورٹی اداروں کی کارکردگی کو سراہتے ہیں۔ لیکن ہم سب جانتے ہیں کہ ہمیں بہت چوکس اور محتاط رہنا ہوگا۔ اسی لیے ہم ضروری اقدامات اٹھا رہے ہیں۔ میں یہ ایک بار پھر دہرانا چاہتا ہوں کہ سلامتی کی صورتحال کو برقرار رکھنے کے لے ہماری فوج اور پولیس بڑی تعداد میں اس وقت زمین پر موجود ہے۔‘

پیرس میں 13 نومبر کو فائرنگ اور بم حملوں میں 130 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ اس کے بعد برسلز میں 22 مارچ کو ہونے والے حملوں میں 32 افراد ہلاک ہوئے۔ دونوں حملوں کی ذمہ داری دولتِ اسلامیہ نے قبول کی تھی۔

اسی بارے میں