’وعدہ کرتی ہوں آئندہ نہیں کروں گی‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption ’میں وعدہ کرتی ہوئی کہ یطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی نہیں کروں گی، میں وعدہ کرتی ۔۔۔‘

ویتنام میں لوگ ایک شہر کی ٹریفک پولیس کی بہت تعریف کر رہے ہیں کہ اس نے ایک خاتون کو قوانین کی خلاف ورزی پر جرمانہ کرنے کی بجائے انھیں پچاس مرتبہ یہ لکھنے کو کہا کہ وہ آئندہ ایسی حرکت نہیں کریں گی۔

برما کی ایک ویب سائٹ کے مطابق ڈانانگ کے شہر میں پولیس نے سکول کے بچوں کو دی جانے والی یہ سزا اس وقت تجویز کی جب ایک 20 سالہ خاتون نے یکطرفہ ٹریفک کی خلاف ورزی کی اور گاڑی ’ون سٹریٹ‘ میں لے گئیں۔

مقامی ٹریفک پولیس کے سربراہ کا کہنا تھا کہ جب انھیں روکا گیا تو خاتون ڈرائیور خاصی بدحواس ہوگئیں کیونکہ ان کے بقول انھوں نے سڑک کے کنارے لگا ہوا یکطرفہ ٹریفک کا نشان نہیں دیکھا تھا۔

موقعے پر موجود ٹریفک کے عملے نے انھیں شک کا فائدہ دیتے ہوئے کہا کہ اگر وہ 50 مرتبہ یہ لکھیں کہ ’میں وعدہ کرتی ہوں کہ آئندہ غلط سمت میں ڈرائیو نہیں کروں گی‘ تو انھیں جرمانے سے معافی دی جا سکتی ہے۔

خاتون نے یہ تجویز بخوشی قبول کر لی اور فوراً ہی سڑک کے کنارے بیٹھ کر ایک کاغذ پر لکھنا شروع کر دیا۔

پولیس کے سربراہ کا مزید کہنا تھا کہ ان کا محکمہ چاہتا ہے کہ وہ لوگوں میں ٹریفک قوانین کا زیادہ سے زیادہ شعور پیدا کرے تا کہ لوگوں پر سختی کرنے کی بجائے پولیس والے اپنا کام دوستانہ انداز میں کر سکیں۔ ان کے بقول اگرچہ ان کا عملہ فوراً جرمانہ کرنے کا مجاز ہے لیکن وہ اسے ترجیح نہیں دیتے۔

’اگر کوئی پہلی مرتبہ قانون توڑتا ہے اور اسے جرمانہ کر دیا جاتا ہے تو اس کے دل میں پولیس کے بارے میں منفی خیالات پیدا ہو جاتے ہیں وہ سمجھتا ہے کہ پولیس والوں کی ’کوئی تعلیم نہیں ہوتی۔‘

معاشرتی رابطوں کی ویب سائٹس پر لوگوں کی بڑی تعداد نے پولیس کے اس انوکھے انداز کو سراہا ہے اور مقامی سوشل میڈیا کی ایک سائٹ پر اسے دو ہزار چھ سو سے زیادہ افراد نے پسند کیا ہے۔

مذکورہ ویب سائٹ نے ٹریفک پولیس کی جانب سے ماضی میں دی جانے والی ایک دلچسپ سزا کا ذکر بھی کیا ہے جب ٹریفک قوانین کی خلاف ورزی پر ایک نوجوان کو یہ سزا دی گئی تھی کہ وہ سڑک کے کنارے کھڑے ہوئے ایک عمر رسیدہ ٹھیلے والے سے بہت سے چیونگ گم خریدے۔

اسی بارے میں