ہیروشیما میں جو دیکھا کبھی نہ بھولوں گا: جان کیری

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان کیری ’جی سیون‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ہیروشیما پہنچے ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے کہا ہے کہ ہیروشیما کے دورے نے ’دل دھلا‘ کر جوہری ہتھیاروں سے جان چھڑانے کی ضرورت کی پھر یاد دہانی کرائی ہے۔

جان کیری نے یہ کلمات ہیروشیما میں ایٹمی حملے کی یادگار پر پھولوں کی چادر چڑھانے کے بعد ایک پریس کانفرنس میں کی۔

جان کیری پہلے امریکی وزیر خارجہ ہیں جنھوں نے ہیروشیما پر ایٹم بم کے حملے کی یادگار کا دورہ کیا ہے۔

ہیروشیما پر امریکہ نے دوسری جنگ عظیم کے دوران سنہ 1945 میں ایٹم بم گرایا تھا جس میں ایک لاکھ 40 ہزار شہری ہلاک ہو گئے تھے۔

انھوں نے کہا کہ جو کچھ انھوں نے دیکھا ہے وہ کبھی فراموش نہیں کر سکیں گے۔ انھوں نے کہا کہ یہ سب کچھ یہ باور کراتا ہے کہ جنگ کے دوران فیصلے کتنے پیچیدگی اختیار کر جاتے ہیں اور جنگ شہریوں، آبادیوں، ملکوں اور دنیا پر کس طرح اثر انداز ہوتی ہیں۔

قبل ازیں امریکہ کے وزیر خارجہ جان کیری نے ہیروشیما میں ’پیس میموریل پارک‘ اور میوزیم کا تاریخی دورہ کیا۔

جان کیری پہلے امریکی اعلیٰ عہدیدار ہیں جنھوں نے جاپان کے شہر ہیروشیما یا اس مقام کا دورہ کیا ہے جو ایٹمی حملوں کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی یاد دلاتا ہے۔

انھوں نے ہیرو شیما میں یادگار پر پھول چڑھائے اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی۔

امریکی وزیر خارجہ نے ’بام ڈوم‘ کا بھی دورہ کیا۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں ایٹم بم پھٹا تھا۔ اس کے بعد وہ قریب ہی واقع ہیروشیما میوزیم گئے جو اس بمباری میں ہلاک ہونے والوں کی داستان بیان کرتا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption خیال کیا جا رہا ہے کہ جان کیری کے اس دورے سے دونوں ممالک کے تعلقات مضبوط ہوں گے

افغانستان سے واپسی پر جان کیری دنیا کی سات بڑی معاشی طاقتوں کے گروپ ’جی سیون‘ کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے ہیروشیما پہنچے ہیں۔

یاد رہے کہ آج تک اپنے دور اقتدار میں کسی بھی امریکی صدر نے ہیروشیما کا دورہ نہیں کیا تھا۔ تاہم ایسی اطلاعات ہیں کہ آئندہ مئی میں امریکی صدر براک اوباما ’جی سیون‘کے رہنماؤں کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے جاپان جائیں گے۔

اگر ایسا ہوا ہے تو وہ ہیروشیما کا دورہ کرنے والے پہلے امریکی صدر بن جائیں گے۔

جی سیون کے وزرائے خارجہ جن امور پر تبادلہ خیال کریں گے ان میں دہشت گردی، مشرق وسطیٰ اور یورپ میں پناہ گزینوں کا بحران بھی شامل ہیں۔

توقع کی جا رہی ہے کہ اجلاس میں جاپان ہیروشیما پر ایٹمی بم کے تباہ کن اثرات کی مناسبت سے دنیا میں جوہری ہتھیاروں کی تعداد میں کمی کی بات پر بھی زور دے گا۔

واضح رہے کہ چھ اگست سنہ 1945 میں امریکی بمبار طیاروں نے یورنیئم بم جسے ’لٹل بوائے‘ کا نام دیا گیا جاپانی شہر ہیروشیما پر گرایا تھا۔

اس ایٹمی حملے کے نتیجے میں تقریباً ایک لاکھ 40 ہزار افراد ہلاک ہوئے تھے۔

امریکی وزیر خارجہ جان کیری کے دورہ جاپان کو اس لیے اہم سمجھا جا رہا ہے کہ اس دورے کی وجہ سے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات مضبوط ہونے کا امکان ہے۔

اسی بارے میں