امریکی بحریہ کے افسر پر چین کے لیے جاسوسی کرنے کا الزام

Image caption ایڈورڈ لن نے امریکی بحریہ میں سنہ 1999 میں کام کرنا شروع کیا تھا اور 2008 میں انہیں امریکی شہریت ملی تھی۔

امریکہ میں فوجی حکام کے مطابق بحریہ کے افسر کے خلاف جاسوسی کرنے کا مقدمہ درج کیا گيا ہے جن پر چین اور تائیوان کو خفیہ فوجی معلومات فراہم کرنے کا الزام ہے۔

امریکی خبر رساں ادارے دی ایسوسی ایٹیڈ پریس نے مذکورہ افسر کا نام لیفٹنٹ کمانڈر ایڈورڈ لن بتایا ہے جو پیدا تو تائیوان میں ہوئے تھے لیکن امریکی شہری ہیں۔

لن ورجینیا میں بحریہ کے ایک اڈے پر زیر حراست ہیں جن کا بہت جلد ہی کورٹ مارشل ہونے کا امکان ہے۔

اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق حکام کو خیال کہ انھوں نے اپنی ایک چینی محبوبہ کو خفیہ معلومات فراہم کیں۔

لیفٹنٹ کمانڈر لن پر یہ الزامات بھی عائد کیے گئے ہیں کہ انھوں نے اپنے سفر سے متعلق جھوٹ بولا۔

امریکہ میں بحریہ سے متعلق ایک ادارے نیول انسٹی ٹیوٹ نیوز نے پہلی بار اس بارے میں خبر دی تھی۔ اس کی ویب سائٹ نے لکھا تھا کہ لن بحریہ کے ای پی 3- ای کے محکمہ میں سگنلز انٹیلیجنس سپیشلسٹ کے طور پر کام کرتے تھے۔

انھوں نے امریکی بحریہ میں سنہ 1999 میں کام کرنا شروع کیا تھا اور 2008 میں انھیں امریکی شہریت ملی تھی۔

شہریت ملنے کے بعد لن نے کہا تھا کہ وہ ہمیشہ امریکہ آنے کے خواب دیکھتے تھے، توقعات اور وعدوں کی سرزمین۔ اور یہ کہ وہ یہ سوچتے ہوئے بڑے ہوئے کہ امریکہ کے تمام راستے ڈزنی لینڈ کی طرف ہی جاتے ہیں۔

اسی بارے میں