بشار الاسد کے پاؤں جمنے لگے

تصویر کے کاپی رائٹ Getty

صدر بشار الاسد کی مذاکراتی ٹیم کو رواں ہفتے جنیوا میں شروع ہونے والے مذاکرات میں شرکت کی جلدی نہیں ہے۔ مذاکرات میں تاخیر اُن کے لیے فائدہ مند ہے۔

امریکہ اور روس کی ثالثی سے ہونے والی عارضی جنگ بندی تناؤ کا شکار ہے اور شام کی افواج نے روسی فضائیہ کی مدد سے حلب کو آزاد کرانے کےلیے مہم کا اعلان کر دیا ہے۔ اگر یہ مہم کامیاب ہوتی ہے تو اِس سے صدر اسد کو اُن کے خلاف برسرپیکار حزب اختلاف کے خلاف بڑی فتح کے اعلان کی ترغیب ملےگی۔

* شام کے قدیم شہر پیلمائرا میں تباہی کی تصاویر

حکومتی مذاکراتی ٹیم کے سربراہ بشار الجعفری پہلے ہی اعلان کر چکے ہیں کہ وہ تاخیر سے جینوا پہنچ پائیں گے۔

چند ہفتے کے مختصر نوٹس کے بعد شام میں بدھ کے روز پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ ان کے مکمل ہونے کے بعد بشار الجعفری فرانس سے مکمل آزادی ملنے کی 70 ویں سالگرہ کی نیو جرسی میں ہونے والی ایک تقریب سے خطاب کریں گے۔

عالمی برادری کے لیے یہ پیغام بالکل واضح ہے کہ شام میں صرف اسد کی حکومت ہی جائز حکومت ہے۔

شہرت بہتر کرنے کی کوشش

حال ہی میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ سے پیلمائرا کا قبضہ دوبارہ حاصل کرنے والے صدر اسد کے لیے بہت اہمیت کی حامل ہے۔

شامی حکومت کی جانب سے ان غیر ملکی صحافیوں کو، جن کا ویزا اکثر مسترد کر دیا جاتا ہے، دعوت دی گئی اور قدیم کھنڈرات کی تصاویر بنانے کے لیے انھوں بسوں میں بھر کر پیلمائرا لے جایا گیا۔

پیلمائرا کے قدیم کھنڈرات اب بھی 80 فیصد اپنی اصل حالت میں فیصد برقرار ہیں۔ اسد کے لیے یہ بہترین موقع تھا کہ وہ اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کی دہشت گردی کا مقابلہ کرنے والے واحد قومی ہیرو کے طور پر پیش کر سکیں۔

پیلمائرا شام کی سیاحت کی صنعت میں تاج میں ہیرے کی حیثیت رکھتا ہے، اور اِس کی واپسی سے شام میں تعمیر نو کے لیے دروازے کھل جائیں گے۔

دمشق میں انتخابی مہم کے دوران پلے کارڈز اور اشتہارات ایسے نعرے درج ہیں: ’ایک دوسرے کے ہمراہ،‘ ’ہاتھ میں ہاتھ ملا کر،‘ ’ ہم شام کی دوبارہ تعمیر کریں گے،‘ ’فاتح شام کو ووٹ دیں،‘ جیسے نعرے درج تھے۔

اِس انتخابی مہم یا نعروں میں صدر اسد کا ذکر کہیں نہیں کیا گیا۔ اِس میں صرف شام، اُس کی شان اور شہیدوں کا تذکرہ تھا۔ تاہم اُن کا کہنا تھا کہ 250 نشستوں کے لیے 1200 اُمیدواروں کے میدان میں آنے سے ثابت ہوتا ہے کہ انتخاب دکھاوا نہیں ہیں۔

ایران اور روس کے اراکین پارلیمان انتخابات کی حمایت کے لیے دمشق میں موجود ہیں اور ’شامی بحران کے بعد تعمیر نو کے مرحلے میں اپنے شامی دوستوں سے حقیقی دوست‘ بننے کے لیے اپنی آمادگی کا اظہار کر رہے ہیں۔

روسی وفد کا کہنا ہے کہ ’تمام امیدواروں کے درمیان واضح مقابلہ محسوس ہو رہا ہے۔‘

بے سود مہم

لیکن عالمی منظر نامے پر ایران اور روس کے علاوہ کوئی ملک اِنتخابات کو تسلیم کرنے کے لیے تیار نہیں ہے۔

فوجی حکام کی جانب سے اُمیدواروں کا چناؤ اور اُن کی چھان پھٹک سے واضح ہوگیا ہے کہ نتائج طے شدہ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Joseph Eid Getty

میں سنہ 2002 میں ہونے والے آخری پارلیمانی انتخابات کے وقت دمشق میں موجود تھا، وہاں زیادہ تر ووٹروں کو نہ تو اُمیدواروں کا علم تھا اور نہ اُن کے نظریات کا۔ شامی پارلیمان بہت کمزور ہے۔

صرف حکومت کے زیرانتظام علاقے انتخابات میں حصہ لے سکتے ہیں، تنازعے کے آغاز کے بعد سے یہاں کی آبادی سکڑ کر 80 لاکھ تک گر چکی ہے، جو خانہ جنگی سے قبل دو کروڑ 45 لاکھ تھی۔

دیگر شامی شہری یا تو ملک سے فرار ہو چکے ہیں، یا کرد علاقوں، یا حزب اختلاف یا دولت اسلامیہ کے زیراثر علاقوں میں رہائش پذیر ہیں یا دوران جنگ مارے جا چکے ہیں۔ سرکاری ملازمین پر ووٹ ڈالنے کی پابندی ہے، ورنہ نوکری سے ہاتھ دھونا پڑ سکتا ہے۔

جلاوطن اور ملک میں موجود حزب اختلاف نے انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر دیا ہے۔ اس کو امن مذاکرات میں مفاد حاصل کرنے کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔

ڈیموکریٹک یونٹی پارٹی (پی وائی ڈی) نے بھی اپنے زیرِ انتظام علاقوں میں ووٹ ڈالنے پر پابندی عائد کر دی ہے۔ یہ شام میں کردوں کی سب سے بڑی جماعت ہے، جو شمال میں تین نیم خودمختار ’چھاؤنیوں‘ کو مضبوط بنانے میں مصروف ہے۔

مرکزی حزب اختلاف اور اُن کے مرکزی حامی ترکی اور سعودی عرب کی پریشانی کے خوف کی وجہ سے اب تک پی وائی ڈی کو جینوا میں ہونے والے امن مذاکرات کی دعوت نہیں دی گئی ہے۔

قومی وحدت

اقوام متحدہ کے نمائندہ خصوصی سٹیفن ڈی مستورا اِس طرح کی تمام مشکلات اور دباؤ سے بہت بہتر انداز میں نمٹ رہے ہیں اور ایسا برتاؤ کر رہے ہیں جیسے امن مذاکرات کافی ’لچکدار‘ ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

اُن کا مقصد اقوام متحدہ کے تحت 18 مہینوں کے اندر انتخابات کرانا ہے، جہاں تمام شامی ووٹ ڈال سکیں، چاہے وہ تارکین وطن ہو، یا مفلوک الحال مہاجر یا پھر امیر تاجر ہوں۔

لیکن آخری بات صدر اسد ملک میں آزادانہ طور پر نگرانی والے انتخابات چاہتے ہیں، جس میں شامی شہری آزادانہ طور پر اپنے نمائندے منتخب کر سکیں۔

صدر بشار الاسد کی تجربہ کار مذاکراتی ٹیم جب جنیوا پہنچے گی تو اس کے کوشش ہو گی کہ ملک میں اتحاد اور سمجھوتے کی باتیں کریں لیکن کسی معاہدے سے دور رہیں۔

اسی بارے میں