سعودی عرب کی مذہبی پولیس کے اختیارات میں کمی

Image caption نئے قوانین میں کہا گیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کا اطلاق نرم اور ہمدردانہ طریقے سے کریں گے

سعودی عرب میں حکام نے ملک کی مذہبی پولیس یعنی مطوع کے اختیارات میں کمی لانے کا فیصلہ کیا ہے۔

اب سعودی عرب کے ادارہ برائے امر بالمعروف و النہی عن المنكر کے ارکان کو مشتبہ افراد کا تعاقب کرنے یا انھیں حراست میں لینے کی اجازت نہیں ہو گی۔

نئے احکامات کے مطابق مذہبی پولیس مشتبہ افراد کے بارے میں معلومات سکیورٹی فورسز کو دے گی۔

یاد رہے کہ مذہبی پولیس اہلکار سعودی عرب میں سڑکوں پر گشت کرتے ہیں اور سماجی رویوں پر نظر رکھتے ہیں۔ تاہم ان پر اکثر الزامات لگائے جاتے ہیں کہ وہ اپنے اختیارات سے تجاوز کرتے ہیں۔

رواں سال فروری میں مذہبی پولیس کے کئی اہلکار اس وقت گرفتار کیے گئے تھے جب انھوں نے ریاض میں ایک شاپنگ سینٹر کے باہر ایک نوجوان عورت کو زدوکوب کیا اور اس کی ویڈیو وائرل ہو گئی۔

سنہ 2013 میں چار پولیس اہلکاروں پر الزام لگایا گیا کہ وہ دو بھائیوں کا گاڑی میں تعاقب کر رہے تھے کہ اس دوران ایک خوفناک ٹریفک حادثہ ہو گیا۔ پولیس ان کا تعاقب اس لیے کر رہی تھی کہ ان دو بھائیوں کو گاڑی میں ریڈیو کی آواز کم کرنے کا کہیں۔ تاہم عدالت نے ان اہلکاروں کو بری کر دیا۔

مذہبی پولیس کے بارے میں نئے قوانین کی منظوری پیر کے روز کابینہ نے دی۔ تاہم منگل کو بھی سرکاری سعودی پریس ایجنسی پر اس کی تفصیل شائع نہیں ہوئی۔

نئے قوانین کے تحت مذہبی پولیس مرد اور عورتوں کو گھلنے ملنے سے روکے گی، الکوحل پر پابندی کو نافذ کرے گی، خواتین پر ڈرائیونگ کرنے کی پابندی اور دیگر سماجی پابندیاں نافذ کرتی رہے گی۔

تاہم نئے قوانین میں کہا گیا ہے کہ وہ ان پابندیوں کا اطلاق نرم اور ہمدردانہ طریقے سے کریں گے۔

نئے قوانین میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ واضح طور پر اپنی شناخت کروائیں گے جس میں ان کا نام، عہدہ، وغیرہ شامل ہو گا۔

قوانین میں کہا گیا ہے کہ مذہبی پولیس کے اہلکاروں کو کسی بھی مشتبہ شخص کا تعاقبئ حراست میں لینے یا اس کی شناخت معلوم کرنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ مذہبی پولیس کے اہلکار صرف مشتبہ فرد کی معلومات سکیورٹی فورسز کو دیں گے۔

اسی بارے میں