بوکو حرام کی قید میں لڑکیوں کی پہلی ویڈیو

تصویر کے کاپی رائٹ other
Image caption 14 اپریل سنہ 2014 کو نائجیریا میں بورنو صوبے سے 219 لڑکیوں کو اغوا کر لیا تھا

اسلامی شدت پسند گروپ بوکو حرام نے ایک ویڈیو جاری کی ہے جس میں ان مغوی لڑکیوں میں سے بعض کو زندہ دیکھا جا سکتا ہے جنھیں دو برس قبل چیبوک سے اغوا کیا گيا تھا۔

جو ویڈیو نائجیریا کی حکومت کو بھیجی گئی ہے اس میں سیاہ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس 15 لڑکیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو اپنا تعارف اس طرح کرا رہی ہیں کہ وہ سیکنڈری سکول کی وہی طالبات ہیں جنھیں اغوا کر لیا گیا تھا۔

اس ویڈیو کی بعض لڑکیوں کو ان کے والدین نے پہچان بھی لیا ہے۔ مئی 2014 کے بعد یہ اپنی نوعیت کی ایسی پہلی ویڈیو ہے جس میں لڑکیاں دیکھی گئی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گلانگ نے کہا کہ بلا شبہ وہ ہماری بیٹیاں تھیں۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ حکومت ہماری بچیوں کو کسی طرح واپس لائے

اس نئی ویڈیو میں لڑکیاں حکومت سے استدعا کر ہی ہے کہ وہ ان کی آزادی کے لیے شدت پسند تنظیم سے تعاون کرے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ویڈیو گذشتہ برس کرسمس کے روز فلمائی گئی ہوگی۔

ان لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک تو کیا جا رہا ہے لیکن وہ آزاد ہو کر اپنے خاندان کے ساتھ مل کر رہنا چاہتی ہیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان بچیوں میں سے دو کی ماؤں، رفکاتو ایوب اور میری اشایا، نے کہا کہ ویڈیو میں انھوں نے اپنی بیٹیوں کو پہچان لیا۔ جبکہ ایک دوسری خاتون یانہ گلانگ کا کہنا تھا کہ انھوں نے گم شدہ لڑکیوں میں پانچ کو پہچانا۔

حکومت نے انھیں ویڈیو دکھانے کے لیے خصوصی انتظامات کیے تھے۔

دیکھنے کے بعد گلانگ نے کہا: ’بلا شبہ وہ ہماری بیٹیاں ہیں۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ حکومت ہماری بچیوں کو کسی طرح واپس لائے۔‘

نائجیریا میں 200 سے زائد طالبات کے اِغوا کو دو سال بیت چکے ہیں۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے دو برس قبل 14 اپریل 2014 کو نائجیریا میں بورنو صوبے کے چیبوك شہر سے 219 لڑکیوں کو اِغوا کر لیا تھا جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

لڑکیوں کے اِغوا کے ایک ماہ بعد بوکو حرام کے سربراہ ابوبکر شیکاؤ نے ایک ویڈیو بیان جاری کیا تھا جس میں انھوں نے کہا تھا کہ طالبات نے اسلام قبول کر لیا ہے اور اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو جبری طور پر ان کی شادیاں کر دی جائیں گی۔

دو برس کے وقفے میں 219 میں سے 57 لڑکیاں کسی طرح اب تک واپس ہو پائی ہیں اور باقی تمام ابھی شدت پسندوں کی قید میں ہیں۔

ادھر اغوا کے دو برس مکمل ہونے پر سینکڑوں والدین ان لڑکیوں کی رہائی کے لیے نائجیریا کے دارالحکومت ابوجا میں مارچ کرنے والے ہیں۔ یہ لوگ مطالبہ کر رہے ہیں کہ ان کی بیٹیوں کی رہائی کے لیے حکومت مزید اقدامات کرے۔

بوکو حرام کیا ہے

  • سنہ 2002 میں قائم کی جانے والی تنظیم مغربی تعلیم کی مخالف ہے
  • بوکو حرام کا لفظی مطلب ہے ’مغربی تعلیم حرام ہے‘
  • تنظیم نے سنہ 2009 میں ’اسلامی ریاست‘ بنانے کے لیے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا
  • اس کے ہاتھوں نائجیریا بھر میں اور خصوصاً ملک کے مشرقی علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
  • دارالحکومت ابوجا میں اس تنظیم نے اقوامِ متحدہ کے دفتر اور پولیس پر حملے بھی کیے ہیں
  • 200 سے زائد طالبات کے علاوہ بھی یہ سینکڑوں دوسرے افراد کے اغوا میں بھی ملوث ہے
  • حال ہی میں اس تنظیم نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا

اسی بارے میں