جاپان میں زلزلے سے نو افراد ہلاک، متعدد زخمی

تصویر کے کاپی رائٹ AP

جاپان میں حکام کا کہنا ہے کہ ملک کے جنوبی حصے میں آنے والے زلزلے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور 250 سے زائد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ مہندم ہونے والی عمارتوں کے نیچے مزید افراد کے پھنسے ہونے کا اندیشہ ہے۔

یہ زلزلہ کیوشو جزیرے پر کماموٹو پریفیکچر (ضلع) کے مشرق میں آیا۔

زلزلے کے باعث ہزاروں افراد گھروں سے بھاگ گئے اور متعدد نے رات سٹرکوں پر گذاری۔

6.4 کی شدت سے آنے والے زلزلے کے بعد سونامی کی کوئی وارننگ جاری نہیں کی گئی۔

تصویر کے کاپی رائٹ

کیوشو جزیرے پر واقع جوہری پلانٹ محفوظ بتائے جاتے ہیں اور وہاں کام معمول کے مطابق ہو رہا ہے۔

محکمہ موسمیات کا کہنا ہے کہ زلزلے کے 40 منٹ بعد 5.7 شدت کا جھٹکا بھی محسوس کیا گیا۔

ایک مقامی پولیس اہلکار نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ’جھٹکے بہت شدید تھے جنھیں میں برداشت نہ کر سکا۔‘

جاپان کے ریڈی کراس ہسپتال کے ایک اہلکار نے بی بی سی ورلڈ نیوز کو جمعے کی صبح بتایا کہ ان کے پاس اب تک 254 زخمی افراد آئے ہیں جن میں سے 15 شدید زخمی ہیں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ دوسرے علاقوں میں موجود ریڈ کراس کی میڈیکل ٹیمیں ہمارے ہسپتال میں جمع ہو رہی ہیں۔

جاپان کے چیف سیکریٹری کا کہنا ہے زلزلے سے کم سے کم 19 مکانات تباہ ہوئے ہیں اور حکام نقصان کا اندازہ لگا رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ

اطلاعات کے مطابق زلزلے کے بعد تقربیاً 16,000 گھروں میں بجلی جبکہ 38,000 گھروں میں گیس نہیں ہے۔

جاپان میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں لیکن عمارتوں کے متعلق سخت قوانین کی وجہ تباہی کم ہی ہوتی ہے۔

مارچ 2011 میں شمال مشرقی جاپان میں 9 کی شدت سے زلزلہ اور اس کے بعد سونامی آنے سے 18 ہزار سے زیادہ افراد ہلاک اور لاپتہ ہو گئے تھے اور اس کی وجہ سے فوکوشیما ڈائچی جوہری پلانٹ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔

اسی بارے میں