ایسی مائیں جن کا دکھ کوئی نہیں جانتا

شام میں خود کو دولت اسلامیہ کہلانے والے شدت پسند تنظیم کے لیے لڑنے والے نوجوان مرد اور خواتین کی مائیں کافی مشکل زندگی گزارتی ہیں اور شدت پسندی پر مبنی کہانیوں کی سرخیوں میں ان کا دکھ اکثر کھو جاتا ہے۔

ایک ڈرامے ’ایک اور دنیا ۔۔۔ ہمارے بچے جنھیں دولتِ اسلامیہ کھا رہی ہے‘ کے ذریعے ان کا دکھ اور آواز کو مولن بیک سے برسلز اور دیگر علاقوں میں بڑے پیمانے پر حاضرین تک پہنچانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔

اس ڈرامے کے مکالمے مکمل طور پر ان ماؤں کے بیانات سے لیےگئے ہیں جن کے بچے گھر چھوڑ کر شام چلے گئے ہیں۔ ڈرامے میں ایسی 45 ماؤں کے بیانات شامل کیے گئے ہیں۔

ڈرامے کی ریہرسل کے دوران معلوم ہوا کہ اس ڈرامے میں شامل ایک خاتون جنھوں نے ٹیم سے بات کی، ممکنہ طور پر اس نوجوان کی ماں ہیں جس نے خود کو پیرس حملوں کے دوران دھماکے سے اڑایا تھا۔

برسلز کے علاقے مولن بیک میں ایک ماں جن کے بیٹے نے دولت اسلامیہ میں شمولیت اختیار کر لی، ان کا کہنا ہے کہ ’میں نے لفظ شام سنا تو ایسا محسوس ہو ا جیسے پوری دنیا مجھ پر آگری ہو۔ میں نے بطور ماں اپنا کام صحیح طرح نہیں کیا، میں اپنے بیٹے کا بوسہ لینے نہیں گئی، اسے بتانے نہیں گئی کہ میں اس سے محبت کرتی ہوں، وہ میرا سب کچھ ہے۔‘

تو ایسا کیا ہے جو نوجوانوں کو شام جا کر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ میں شامل ہونے کی جانب راغب کرتا ہے؟ ایسا کیا ہے جو وہ اپنے گھر والوں کو چھوڑ کر خطرناک علاقے کی طرف بڑھتے ہیں۔

گیلیان سلوو جو اس ڈرامے کی مصنفہ ہیں، ان کا کہنا ہے کہ ’اس کا کوئی ایک جواب نہیں ہے۔ نسل پرستی، اسلام مخالف سوچ اور دوسرے بچوں سے الگ تھلگ رہنے کا احساس ہے۔‘

گیلیان سلوو نے اس ڈرامے کے لیے 45 افراد سے بات کی۔

اس ڈرامے کا ہر لفظ جو آپ سنیں گے وہ اصل افراد کے الفاظ ہیں۔ اس سارے عمل میں کئی ماہ لگے۔

’ہمارے پاس ایسے تحقیق کار تھے جنھوں نے ان افراد سے رابطہ کرنے میں مدد فراہم کی جن کے بارے میں خیال کیا جاتا ہے کہ انھیں اس بارے میں سب سے زیادہ معلومات ہیں۔ میں نے معلومات لینے کے لیے ایک سے دو گھنٹوں تک لوگوں کے انٹرویو کیے۔‘

جس وقت اس ڈرامے پر کام ہو رہا تھا اس وقت پیرس حملے نہیں ہوئے تھے۔

گیلیان سلوو نے مزید بتایا کہ ’ریہرسل کے دوران ایک ماں وہاں موجود نہیں تھی۔ ہمیں معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا ان افراد میں شامل تھا جنھوں نے پیرس حملے کیے، اور اس نے فرانس سٹیڈیم سے پانچ سو میٹر دور خود کو دھماکہ خیز مواد سے اڑا لیا۔‘

ان کے مطابق: ’اس سے ڈرامے میں ایک نئی بات شامل ہو گئی کیونکہ وہ ہمیشہ خود کو قصور وار مانتی تھیں اور کہتی ھیں کہ اگر میں نے سب کچھ صحیح سے کیا ہوتا تو میرا بیٹا نہ جاتا۔‘

ایک اندازے کے مطابق صرف برطانیہ سے تقریباً آٹھ سو افراد شام گئے ہیں۔ ان میں بیتھنل گرین سے تین سکول کی لڑکیاں، لوٹن سے 12 افراد پر مشتمل خاندان کے ساتھ ساتھ بریڈ فورڈ کے دو خاندان جن میں دو بہنیں شامل ہیں۔ دوؤد سسٹرز کے خاوندوں نے ان کی واپسی کے لیے اپیل بھی کی تھی۔

تاہم برطانوی خاندانوں کو اس ڈرامے میں شامل نہیں کیا گیا۔ گیلیان سلوو کا کہنا ہے کہ اس کی وجہ مسلمانوں کا خوف ہے کہ ان کے الفاظ کو ان کے خلاف استعمال کیا جا سکتا ہے۔

گیلیان سلوو کو امید ہے کہ اس ڈرامے سے لوگوں کو آگاہی ہونے کے ساتھ ساتھ مسلمانوں کے خلاف سوچ کو بدلنے میں بھی مدد ملے گی۔

یہ ڈراما سات مئی تک لندن میں نیشنل تھیئٹر میں جاری رہے گا۔

اسی بارے میں