بوکو حرام: مغوی لڑکیوں کی پہلی ویڈیو ’امید کی کرن‘

شدت پسند گروپ بوکو حرام کی جانب سے دو برس قبل اغوا کی جانے والی نائیجریا کی مغوی لڑکیوں کی نئی ویڈیو سامنے آنے کے بعد ان کے خاندان اور دوستوں نے امید ظاہر کی ہے کہ شاید ان کی رسائی کی کوئی صورت ممکن ہو سکے۔

نائجیریا کی حکومت کو بھیجی گئی تازہ ترین ویڈیو سی این این نے حاصل کی ہے جو بظاہر دسمبر میں بنائی گئی تھی۔

اس ویڈیو میں سیاہ رنگ کے کپڑوں میں ملبوس 15 لڑکیوں کو دیکھا جا سکتا ہے جو اپنا تعارف اس طرح کرا رہی ہیں۔

شدت پسند تنظیم بوکو حرام نے چیبوك سے 219 لڑکیوں کو اِغوا کر لیا تھا جس کی بین الاقوامی سطح پر مذمت کی گئی تھی۔

دوسری جانب نائیجریا کے وزیر اطلاعات لائی محمد کا کہنا ہے کہ حکومت کو اس طرح کی ایک ویڈیو گذشتہ برس جولائی میں موصول ہوئی تھی۔

انھوں نے سوال کیا کہ اس ویڈیو کو اب کیوں جاری کیا گیا ہے تاہم انھوں نے زور دے کر کہا ’حکومت تمام ممکنات پر غور کر رہی جو لڑکیوں کی رہائی کا باعث بن سکے۔‘

اس نئی ویڈیو میں لڑکیاں حکومت سے استدعا کر رہی ہیں کہ وہ ان کی آزادی کے لیے شدت پسند تنظیم سے تعاون کرے۔ بظاہر ایسا لگتا ہے کہ یہ ویڈیو گذشتہ برس کرسمس کے روز فلمائی گئی ہوگی۔

اس ویڈیو میں ان لڑکیوں کا کہنا تھا کہ ان کے ساتھ اچھا سلوک تو کیا جا رہا ہے لیکن وہ آزاد ہو کر اپنے خاندان کے ساتھ مل کر رہنا چاہتی ہیں۔

اس ویڈیو کو دیکھنے والے ایوبا الماسن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انھوں نے اپنی دو بھتیجیوں کو پہچان لیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ ویڈیو دیکھنے کے بعد ہمیں کچھ امید ملی ہے۔ ’اب ہم یقین کر سکتے ہیں کہ یہ لڑکیاں ابھی تک زندہ ہیں اور ہم دعا کرتے ہیں کہ وہ جلد رہا ہو جائیں۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق ان بچیوں میں سے دو کی ماؤں، رفکاتو ایوب اور میری اشایا، نے کہا کہ ویڈیو میں انھوں نے اپنی بیٹیوں کو پہچان لیا۔

ایک دوسری خاتون یانہ گلانگ کا کہنا تھا کہ انھوں نے گم شدہ لڑکیوں میں پانچ کو پہچانا۔

ویڈیو دیکھنے کے بعد گلانگ نے کہا: ’بلا شبہ وہ ہماری بیٹیاں ہیں۔ ہم بس یہی چاہتے ہیں کہ حکومت ہماری بچیوں کو کسی طرح واپس لائے۔‘

بوکو حرام کیا ہے

  • سنہ 2002 میں قائم کی جانے والی تنظیم مغربی تعلیم کی مخالف ہے
  • بوکو حرام کا لفظی مطلب ہے ’مغربی تعلیم حرام ہے‘
  • تنظیم نے سنہ 2009 میں ’اسلامی ریاست‘ بنانے کے لیے کارروائیوں کا آغاز کیا تھا
  • اس کے ہاتھوں نائجیریا بھر میں اور خصوصاً ملک کے مشرقی علاقوں میں ہزاروں افراد ہلاک ہو چکے ہیں
  • دارالحکومت ابوجا میں اس تنظیم نے اقوامِ متحدہ کے دفتر اور پولیس پر حملے بھی کیے ہیں
  • 200 سے زائد طالبات کے علاوہ بھی یہ سینکڑوں دوسرے افراد کے اغوا میں بھی ملوث ہے
  • حال ہی میں اس تنظیم نے شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کی حمایت کا اعلان کیا تھا

اسی بارے میں