جاپان میں زلزلے اور بارش کے بعد لینڈ سلائیڈنگ کا خطرہ

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

جاپان میں آنے والے شدید زلزلے کے بعد دسیوں ہزاروں افراد نے سردی اور بارش میں رات عارضی پناہ گاہوں میں گزاری۔

مقامی ذرائع ابلاغ کے مطابق شدید بارش کے باعث لینڈ سلائڈنگ کے پیش نظر مزید نقصانات سے بچنے کے لیے دو لاکھ 40 ہزار سے زائد افراد سے علاقہ چھوڑنے کو کہا گیا ہے۔

درجنوں افراد کے بارے میں خیال کیا جا رہا ہے کہ وہ اب بھی ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

جاپان میں جمعرات اور سنیچر کو آنے والے زلزلے میں اب تک 40 سے زائد افراد ہلاک ہوئے ہیں جبکہ دو ہزار کے قریب زخمیوں کو طبی امداد فراہم کی گئی ہے۔

زخمی ہونے والے افراد میں سے دو سو کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

زلزلے کے بعد امدادی کارروائیاں جاری ہیں اور 20 ہزار کے قریب فوجی اہکاروں کو متاثرہ علاقے میں بھیجا جا رہا ہے۔ خدشہ ہے کہ درجنوں افراد کے تاحال ملبے تلے دبے ہوئے ہیں۔

جاپان کے وزیراعظم شینزو ایبے نے خبردار کیا ہے کہ زلزلے کے بعد شدید بارش کی پیشنگوئی اور سرد راتوں کی وجہ سے ’امداد کارکنوں اور وقت کے درمیان دوڑ‘ لگی ہوئی ہے۔

انھوں نے تسلیم کیا کہ رات بھر جاری رہنے والے امدادی آپریشن’بہت مشکل‘ تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

حکام کا کہنا ہے کہ جمعے کو كماموٹو میں آنے والے زلزلے کی شدت 7.3 تھی اور اس میں کم سے کم تین افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوگئے۔اس زلزلے کے کچھ ہی دیر بعد ایک دوسرا جھٹکا بھی آیا۔

لاکھوں افراد نے سردی اور عارضی پناہ گاہ میں رات گزاری ہے۔

اس سے پہلے جمعرات کو آنے والے زلزلے میں کم سے کم نو افراد ہلاک ہو گئے تھے۔

حکام کا کہنا ہے کہ کماموٹو میں ایک ڈیم کے تباہ ہونے کے بعد ایک گاؤں کو خالی کروا لیا گیا ہے۔زلزلے کے بعد سونامی کی وارننگ جاری کی گئی تھی لیکن 50 منٹ کے بعد یہ وارننگ واپس لے لی گئی۔

مشیکی قصبے میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار رابن برانٹ کا کہنا ہے کہ ’یہاں بارش ہو رہی ہے اور کافی سردی ہے، یہاں کوئی بھی نہیں ہے۔ مشیکی ویران ہو گیا ہے۔‘

زلزلے سے كماموٹو شہر کو بہت نقصان پہنچا ہے سڑکیں، پل، مکان اور عمارتیں سب تباہ ہو گئی ہیں۔ زلزلے کے بعد مٹی کے تودے گرنے سے پسماندہ پہاڑی علاقوں تک رابطہ منقطع ہو گیا ہے۔

ایک لاکھ سے زائد افراد بجلی کے اور چار لاکھ افراد پانی سے محروم ہیں۔

ٹوکیو میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار روپرٹ وینگ فیلڈ کا کہنا ہے کہ جمعے کو آنے والا نیا زلزلہ زیادہ شدید تھا اور اس سے زیادہ علاقہ متاثر ہوا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

حکام کے مطابق ساحل کے قریب واقع ایک قصبہ بہت زیادہ متاثر ہوا ہے اور اس بات کا خدشہ ہے کہ قصبے میں موجود ایک سٹی ہال گر بھی سکتا ہے۔ حکام کے مطابق ایک ہسپتال کو محفوظ نہ ہونے کی وجہ سے خالی کروایا لیا گیا ہے۔

نامہ نگار کے مطابق زلزلے کے بعد ہزاروں افراد بھاگ کر سٹرکوں اور پارکوں میں چلے گئے اور ان کے چہروں پربدحواسی اور خوف کا منظر تھا۔

بعض اطلاعات کے مطابق متعدد افراد عمارتوں میں پھنسے ہوئے ہیں اور معمر افراد کے لیے ایک گھر میں کم سے کم 60 افراد موجود ہیں۔

جاپان میں جمعرات کو آنے والے زلزلے میں کم سے کم نو افراد ہلاک اور 1,000 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔

جاپان میں اکثر زلزلے آتے رہتے ہیں لیکن عمارتوں کے متعلق سخت قوانین کی وجہ تباہی کم ہی ہوتی ہے۔

جاپان کے زلزلے سے متعلق معلومات فراہم کرنے والے ادارے کا کہنا ہے کہ جمعرات کو 6.2 کی شدت سے آنے والے زلزلے سے کچھ علاقے متاثر ضرور ہوئے تھے تاہم سنہ 2011 میں شمال مشرقی جاپان میں آنے والے زلزلے اور اس کے بعد سونامی آنے سے فوکوشیما ڈائچی جوہری پلانٹ بھی بری طرح متاثر ہوا تھا۔

اسی بارے میں