تیل کی پیداوار پر ہونے والا اجلاس بغیر معاہدے کے ختم

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption محمد بن صالح ال سدا نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ ایران کے موقف کا احترام کرنا چاہیے

قطر میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کے درمیان تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے کے حوالے سے ہونے والا اجلاس بغیر کسی معاہدے کے ختم ہوگیا ہے۔

چھ گھنٹوں تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد قطر کے توانائی کے وزیر محمد بن صالح ال سدا نے کہا کہ تیل پیدا کرنے والے ممالک کو ’مزید وقت کی ضرورت ہے۔‘

اجلاس میں اوپیک کے رکن ممالک کے ساتھ روس جیسے ممالک نے بھی شرکت کی جو تیل برآمد تو کرتے ہیں لیکن اوپیک کے رکن نہیں ہیں۔

کیا تیل کی پیداوار منجمد ہو پائے گی؟ایران تیل کی پیداوار منجمد کرنے سے انکاری

محمد بن صالح ال سدا کا کہنا ہے کہ ’ہم اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ ہمیں اوپیک میں شامل اور دیگر تیل برآمد کرنے والے ممالک کے ساتھ بات چیت کرنے کے لیے مزید وقت کی ضرورت ہے۔‘

اس سے قبل اتوار کو یہ خبر سامنے آئی تھی کہ قطر میں تیل برآمد کرنے والے ممالک کے اجلاس میں تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے کا فیصلہ مشکلات سے دوچار ہوتا دکھائی دے رہا ہے کیونکہ ایران اس پر آمادہ نہیں اور اس لیے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہا۔

اجلاس میں شریک سعودی عرب سمیت دیگر ممالک اس امید کا اظہار کر رہے ہیں کہ تیل کی پیداوار کو منجمد کرنے سے قیمتوں میں اضافہ ہوگا۔

ایران پر سے اقتصادی پاندیاں اٹھائے جانے کے بعد سے اس کا موقف ہے کہ وہ تیل کی پیداوار جاری رکھے گا۔

یاد رہے کہ جون 2014 میں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمت 115 ڈالر فی بیرل تھی۔

اقتصادی پابندیوں کے خاتمے کے بعد ایران تیل کی منڈی میں اپنا کھویا ہوا حصہ دوبارہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

اس سے قبل ہی سعودی عرب کے ولی عہدنے کہا تھا کہ ایران کی جانب سے تیل کی پیداوار منجمد کرنے پر ہی سعودی عرب اس بارے میں کوئی فیصلہ کرے گا لیکن سعودی عرب کی جانب سے یہ حتمی فیصلہ ہے یا نہیں اس بارے میں وثوق سے نہیں کہا جا سکتا ہے۔

اسی بارے میں