امریکہ: عربی زبان میں گفتگو پر طیارے سے اتار دیا

تصویر کے کاپی رائٹ AP
Image caption ساؤتھ ویسٹ ایئر لائینز کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ 9 اپریل کو پیش آیا تھا

امریکی ریاست کیلیفورنیا میں مقیم یونیورسٹی کے ایک عراقی طالب علم کو عربی میں گفتگو کرنے پر ہوائی جہاز سے اتار دیا گیا۔

امریکی فضائی کمپنی ’ساؤتھ ویسٹ ایئر لائینز‘ کا کہنا تھا کہ یہ واقعہ 9 اپریل کو پیش آیا تھا جب خیرالدین مخذومی نامی شخص کو پرواز شروع کرنے سے پہلے طیارے سے اتار دیا گیا تھا۔

خیرالدین مخذومی کا کہنا ہے کہ اُس وقت موبائل فون پر اپنے انکل سے بات کر رہے تھے اور انھیں بتا رہا تھا کہ میں اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل بان کی مون کی تقریر سننے گیا تھا۔

عربی میں گفتگو سننے کے بعد فضائی عملے کے ایک اہلکار نے پکڑ کر انھیں طیارے سے اتار دیا۔

روزنامہ نیویارک ٹائمز سے بات کرتے ہوئے مسٹر مخذومی نے بتایا کہ ’میں اس وقت بہت خوش تھا اور اپنے انکل کو بتانا چاہتا تھا کہ میں بان کی مون کی تقریر سن کر آ رہا ہوں۔‘

مسٹر مخذومی کے بقول گفتگو کے دوران جب انھوں نے ’انشاءاللہ‘ کہا تو طیارے میں موجود ایک خاتون نے ان کی طرف گھورنا شروع کر دیا۔

جب تھوڑی ہی دیر بعد عملے میں شامل عربی بولنے والا ایک اہلکار انھیں طیارے سے باہر لے آیا تو مسٹر مخذومی نے کہا کہ ’اس ملک میں اسلاموفوبیا یا اسلام سے خوف کی انتہا ہو گئی ہے۔‘

خیرالدین مخذومی ایک عراقی پناہ گزین کے طور پر امریکہ آئے تھے اور اب وہ مشہور تعلیمی ادارے یونیورسٹی آف کیلیفورنیا برکلے میں زیرِ تعلیم ہیں۔

انھوں نے بتایا کہ طیارے سے نیچے اتارنے کے بعد انھیں عملے نے بتایا کہ وہ واپس طیارے پر سوار نہیں ہو سکتے۔

ان کے بقول ’ میں اور میرے گھر والے بہت مصیبتیں برداشت کر چکے ہیں، اور جہاز سے اتارے جانے کا واقعہ بھی ایسے ہی تجربات میں سے ایک ہے۔‘

’ دنیا میں سب سے قیمتی چیز انسان کی عزت ہوتی ہے، پیسہ نہیں۔ اگر وہ لوگ معافی مانگ لیتے ہیں تو ہو سکتا ہے اس واقعے سے انھیں کچھ سبق ملے کہ لوگوں سے مساوی سلوک کیا جاتا ہے۔‘

اپنے ایک بیان میں ساؤتھ ویسٹ ایئر لائینز کا کہنا ہے کہ خیرالدین مخذومی کو طیارے سے اتارے جانے کی وجہ یہ تھی کہ ’انہوں نے ایسے کلمات کہے تھے جو خطرناک ثابت ہو سکتے تھے، تاہم ہماری کپمنی کسی بھی مسافر کے ساتھ کسی قسم کا امتیازی سلوک برداشت نہیں کرتی۔

’ہم کسی بھی مسافر کو طیارے سے اتارنے کا فیصلہ اپنے مسلمہ طریقہ کار اور اصولوں کے مطابق کرتے ہیں۔ ہمیں افسوس ہے کہ ہماری کسی بھی پرواز پر کسی مسافر کو ایسا تجربہ ہوا جو ان کے لیے زیادہ مثبت نہ ثابت ہوا۔‘

اسی بارے میں