مزید 200 امریکی فوجی عراق بھیجنے کا فیصلہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption اضافی فوجیوں کے ساتھ ساتھ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے جنگی ہیلی کاپٹرز بھی بھیجے جائیں گے

امریکہ نے نام نہاد تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں شامل ہونے کے لیے اپنے مزید 200 فوجی عراق بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔

حکام کے مطابق ان فوجیوں کی شمولیت سے عراق میں تعینات امریکی فوجیوں کی تعداد 4100 ہو جائے گی۔

اضافی فوجیوں کے ساتھ ساتھ عراق میں دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کے لیے پہلی مرتبہ اپاچی ہیلی کاپٹرز بھی بھیجے جائیں گے۔

امریکہ کی وزیر دفاع ایش کارٹر نے اضافی فوجی بھیجنے کا اعلان بغداد کے ایک غیر اعلانیے دورے پر کیا۔ انھوں نے وہاں عراق کے فوجی حکام اور وزیرِ اعظم حیدر العابدی سے بھی ملاقات کی۔

امریکہ کا منصوبہ ہے کہ وہ دولتِ اسلامیہ سے برسرِ پیکار کرد فورسز کو بھی 40 کروڑ ڈالر کی امداد فراہم کرے۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ اضافی 200 اہلکار زیادہ تر خصوصی دستوں کے ہی ہوں گے۔ جبکہ دیگر افراد میں تربیت کار، سکیورٹی فورس، مشیر اور اپاچی ہیلی کاپٹروں کی مرمت کے لیے تکنیکی عملہ ہوگا۔

ایش کارٹر کا کہنا تھا کہ عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل کا قبضہ دوبارہ حاصل میں اپاچی ہیلی کاپٹرز حکومتی فورسز کے لیے معاون ثابت ہوں گے۔

امریکہ ایک بین الاقومی اتحاد کا سربراہ ہے جو دولتِ اسلامیہ کے خلاف فضائی بمباری کر رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ BBC World Service
Image caption خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کا کہنا ہے کہ اضافی 200 اہلکار زیادہ تر خصوصی دستوں کے ہی ہوں گے

سنہ 2014 دولتِ اسلامیہ نے عراق کے ایک بڑے حصے پر قبضہ کر لیا تھا تاہم حالیہ مہینوں کی کارروائی میں حکومتی فورسز نے بڑے پیمانے پر علاقوں کا دوبارہ کنٹرول حاصل کیا۔

اسی بارے میں