ایکواڈور زلزلہ: ہلاکتیں 410 سے زیادہ، مزید اضافے کا خدشہ

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ایکواڈور کے صدر رافیئل کوریا نے کہا ہے کہ یہ گذشتہ سات دہائیوں میں ملک پر ٹوٹنے والی سب سے بڑی آفت ہے

لاطینی امریکہ کے ملک ایکواڈور کے حکام کے مطابق ملک میں سنیچر کی شام آنے والے زلزلے میں ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد بڑھ کر 413 ہوگئی ہے جبکہ ملبے تلے دبے افراد کی تلاش کا عمل تیز کر دیا گیا ہے۔

ریکٹر سکیل پر اس زلزلے کی شدت 7.8 ریکارڈ کی گئی تھی اور اس سے ڈھائی ہزار سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

* ایکواڈور میں آنے والے زلزلے کی تصاویر

* ایکواڈور میں اتنے زلزلے کیوں؟

اسے ایکواڈور کی حالیہ تاریخ کا بدترین زلزلہ قرار دیا جا رہا ہےاور ملک کے صدر رافیئل کوریا نے کہا ہے کہ یہ گذشتہ سات دہائیوں میں ملک پر ٹوٹنے والی سب سے بڑی آفت ہے۔

متاثرہ علاقوں کے دورے کے بعد ان کا کہنا تھا کہ ان علاقوں کی تعمیرِ نو اور متاثرین کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں۔

زلزلے سے ملک کے شمال مغربی ساحلی علاقے زیادہ متاثر ہوئے ہیں جہاں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے اور سینکڑوں مکانات منہدم ہوئے ہیں جبکہ سڑکیں اور بجلی کا نظام تباہ ہوگیا ہے۔

متاثرہ علاقوں میں امدادی سرگرمیاں جاری ہیں اور امدادی سرگرمیوں میں شرکت کے لیے مقامی کارکنوں کے علاوہ جنوبی امریکہ کے دیگر ممالک سے بھی ٹیمیں ایکواڈور پہنچی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption سینکڑوں افراد نے پیر کی شب کھلے آسمان تلے گزاری ہے جبکہ کچھ علاقوں سے اشیائے ضرورت کی لوٹ مار کی بھی اطلاعات ہیں

حکام کے مطابق اس وقت ساڑھے 13 ہزار سے زیادہ کارکن امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں جن میں سے 400 غیر ملکی ہیں۔

امدادی کارکنوں نے مانتا نامی قصبے میں منہدم ہونے والے ایک ہوٹل کے ملنے سے چھ افراد کو زندہ نکالا ہے جن میں تین سال اور نو ماہ عمر کی دو بچیاں بھی شامل ہیں۔

ایکواڈور کے صدر نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ ان میں تیزی آنے کے بعد ہلاک شدگان کی تعداد بھی تیزی سے بڑھ سکتی ہے۔

ٹی وی پر قوم سے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ ’ہم ملبہ اٹھا رہے ہیں اور مجھے خدشہ ہے کہ ( ہلاک شدگان کی) تعداد بڑھے گی۔‘

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ جہاں جہاں ملبے سے زندگی کے آثار مل رہے ہیں ان مقامات کو ترجیح دی جا رہی ہے۔

اس زلزلے سے پورٹوویجو اور پیڈرنالیس نامی دو ساحلی قصبات سب سے زیادہ متاثر ہوئے ہیں اور پیر کو پیڈرنالیس کے میئر گیبریئل الکیوار نے کہا ہے کہ ’پورا قصبہ‘ ہی ملیامیٹ ہوگیا ہے اور صرف اس قصبے میں ہلاکتیں 400 ہو سکتی ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption متاثرہ علاقوں کی تعمیرِ نو اور متاثرین کی بحالی کے لیے اربوں ڈالر درکار ہیں

تین لاکھ آبادی والے قصبے پورٹوویجو میں زندہ بچ جانے والے افراد کا کہنا ہے کہ منہدم شدہ عمارتوں کے ملبے تلے دبی لاشوں سے اٹھنے والی بو نے پورے علاقے کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔

ان دونوں قصبات میں سینکڑوں افراد نے پیر کی شب کھلے آسمان تلے گزاری ہے جبکہ کچھ علاقوں سے اشیائے ضرورت کی لوٹ مار کی بھی اطلاعات ہیں۔

حکام نے چھ صوبوں میں ایمرجنسی نافذ کر کے نیشنل گارڈز کو متحرک کر دیا ہے۔

ایکواڈور کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں میں مقامی افراد کے علاوہ غیر ملکی بھی شامل ہیں جن کا تعلق شمالی آئرلینڈ، کینیڈا اور امریکہ سے بتایا گیا ہے۔

اس زلزلے کا مرکز موزین شہر کے آس پاس کا علاقہ تھا جس سے نہ صرف 160 کلو میٹر دور دارالحکومت کیوٹو میں عمارتیں ہل گئیں بلکہ اس کے جھٹکے ہمسایہ ملک کولمبیا تک محسوس کیے گئے۔

اسی بارے میں