انرش بریوک نے انسانی حقوق کا مقدمہ جیت لیا

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption انرش بریوک نے جولائی 2011 ناروے کے جزیرے اٹویا میں فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا تھا

ناروے میں قتلِ عام کے مجرم انرش بہرنگ بریوک نے ریاست کے خلاف انسانی حقوق کا مقدمہ جیت لیا ہے۔

عدالت نے ان کے ’غیرانسانی رویے یا سزا‘ کا برتاؤ رکھنے کے دعوے کو تسلیم کیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے بعد انرش بریوک کے وکیل اوئسٹین سٹوروک کا کہنا تھا کہ ان کو قید تنہائی میں رکھنے کے حوالے سے دوبارہ اپیل کی جائے گی۔

انرش بریوک نے جولائی 2011 ناروے کے جزیرے یٹویا میں فائرنگ کر کے درجنوں افراد کو ہلاک کر دیا تھا۔

اسی روز انھوں نے اوسلو میں ایک کار بم دھماکہ کیا تھا جس میں آٹھ افراد ہلاک ہوئے تھے۔

انرش بریوک نے حکومت کی جانب سے قید تنہائی میں رکھنے کا فیصلہ چیلنج کیا تھا، جس میں انھیں دن کے 22 سے 23 گھنٹے تنہا کمرے میں رکھا جاتا تھا۔ اس دوران انھیں کسی ساتھی قیدی کے ساتھ بات چیت کی اجازت نہیں تھی اور وہ شیشے کے گلاس کے پیچھے سے جیل کے عملے کے ساتھ رابطہ کرسکتے تھے۔

عدالتی حکم سناتے ہوئے جج کا کہنا تھا کہ ان کے جیل کا حصہ ایسا تھا اسے اضافی سزا کے طور پر سمجھا جا سکتا تھا۔

Image caption ناروے کے شہر سکین کے ایک عام جیل کا منظر

جج سیکولک نے اس جانب بھی اشارہ کیا کہ انرش بریوک کوایک طویل عرصے تک رات کے وقت ہر آدھے گھنٹے کے بعد جگایا جاتا تھا اور بعض مواقع پر خاتون اہلکاروں کی موجودگی میں ان کی کپڑے اتار کر تلاشی لی جاتی، ایسی صورتحال میں وہ مشکل کا سامنا کرتے۔

سرکاری وکیل ماریس ایمبرلینڈ کا کہنا تھا کہ حکومت کے لیے یہ فیصلہ حیران کن ہے تاہم اس فیصلے کے خلاف اپیل نہیں کی جائے گی۔

ارکاری نشریاتی ادارے این آر کے کے مطابق اگر دونوں فریقین اس فیصلے کے خلاف چار ہفتوں تک اپیل نہیں کرتے تو جج کے ریمارکس کے مطابق انرش بریوک کی جیل کی جگہ اور ماحول کو مزید بہتر بنانا ہوگا۔

عدالت نے ناروے کی حکومت کو انرش بریوک کے قانونی اخراجات کی مد میں تین لاکھ 30 ہزار کرونے (40 ہزار ڈالر) بھی ادا کرنے کا حکم جاری ہے۔

اسی بارے میں