برسلز دھماکے:’بمبار شام میں یرغمالیوں کی جیل کا گارڈ تھا‘

تصویر کے کاپی رائٹ EPA

شام میں اپنے آپ کو دولت اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم کے ہاتھوں یرغمال رہنے والے افراد کا کہنا ہے کہ برسلز ہوائی اڈے کا ایک بمبار شام میں یرغمال بنائے گئے چار فرانسیسی صحافیوں کی جیل کے گارڈ تھا۔

دو سابق یرغمالیوں کے وکیل نے میڈیا کو بتایا کہ ان چار فرانسیسی صحافیوں کو 14-2013 میں دولت اسلامیہ نے یرغمال بنا لیا تھا اور اس دوران نجیم ان پر نظر رکھنے پر مامور تھا۔

وکیل نے بتایا کہ اس وقت نجیم کو ’ابو ادریس‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

دولت اسلامیہ نے ان یرغمالیوں کو 2014 میں رہا کر دیا تھا۔

یاد رہے کہ نجیم اور ابراہیم برسلز ہوائی اڈے پر کیے جانے والوں دھماکوں میں ہلاک ہو گئے تھے۔

دولت اسلامیہ کے ہاتھوں یرغمال رنے والے افراد کے وکیل نے تصدیق کی کہ نجیم شام میں اس جیل کے گارڈ تھے جہاں ان یرغمالیوں کو رکھا گیا تھا۔

24 سالہ نجیم بیلجیئم کے مضافاتی علاقے میں رہتے تھے اور وہ الیکٹریکل انجینیئر تھے۔

فرانسیسی اخبار کے مطابق نجیم اور مہدی اس جیل کے محافظ تھے جہاں چار صحافیوں کو رکھا گیا تھا۔

یاد رہے کہ مہدی پر 2014 میں برسلز میں واقع یہودی عجائب گھر کے باہر چار افراد کو قتل کرنے کا الزام ہے اور اس وقت وہ بیلجیئم پولیس کی حراست میں ہیں۔

چار فرانسیسی صحافیوں کو جون 2013 میں دولت اسلامیہ نے یرغمال بنایا تھا اور وہ دس ماہ تک ان کی قید میں رہے۔

سابق یرغمالیوں کے وکیل کا کہنا ہے کہ نجیم جنوری 2014 کے آخری ایام میں جیل کی ڈیوٹی سے غائب ہو گئے تھے۔

اسی بارے میں