برطانیہ ریفرنڈم: اوباما کی مداخلت پر شدید ردِ عمل

تصویر کے کاپی رائٹ other

برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا اس سے نکل جانے سے متعلق ریفرنڈم کے حوالےسے امریکی صدر کے بیان پر شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔ امریکی صدر براک اوباما پر ڈاؤننگ سٹریٹ کی جانب سے بولی لگانے کا الزام لگایا جا رہا ہے۔

ان پر یہ الزام ان کے اس بیان کے بعد لگایا گیا ہے جس میں انھوں نے برطانیہ کو یورپین یونین سے علیحدگي پر متنبہ کرتے ہوئے کہا تھا وہ امریکہ کے ساتھ تجارت کے معاملے میں قطار میں آخری ہوگا۔

اوباما نے کہا کہ برطانیہ کا مضبوط یورپی یونین میں اہم کردار ہے اور یورپی یونین کا ممبر رہتے ہوئے عالمی سطح پر برطانیہ ’اہم پلیئر‘ رہے گا۔

صدر اوباما نے یہ بات برطانیہ کے تین روزہ دورے کے آغاز پر کہی۔

٭ ’برطانیہ کا یورپی یونین سے نکلنا عالمی معیشت کے لیہ بڑا دھچکا ہو گا‘

٭ کیمرون کے لیے کڑا امتحان

٭ یورپی یونین میں رہنا ہے ین نہیں، ریفرنڈم جون میں

یورپی یونین چھوڑنے کے حق میں مہم چلانے والوں نے صدر اوباما پر تنقید کی۔

یوکے آئی پی کے نائجل فراج نے کہا کہ اوباما برطانیہ کو زیر کر رہے تھے جبکہ ٹوری لیام فوکس نے کہا کہ ان کے خیالات بے محل ہیں۔

ٹوری کے ایم پی ڈومینک راب نے صدر اوباما کو ’لیم ڈک‘ صدر کہا۔

راب نے کہا ’حقیقت یہ ہے کہ امریکہ ناکام ہو گیا ہے اور یورپی یونین کے ساتھ تجارتی معاہدہ حاصل نہ کر سکنا براک اوباما کی سب سے بڑی تجارتی ناکامی ہے۔

صدر اوباما کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے برطانوی وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے کہا کہ یورپی یونین کا ممبر ہونے سے برطانیہ کے خاص روابط مضبوط ہوئے۔

یورپی یونین سے علیحدہ ہونے یا نہ ہونے پر ریفرنڈم پر ڈیوڈ کیمرون نے کہا ’یہ ہمارے فیصلہ ہے کسی اور کا نہیں۔ یہ برطانیہ کی عوام کا خودمختار فیصلہ ہے۔ لیکن جب ہم یہ فیصلہ کرنے جا رہے ہیں تو دوستوں کی رائے سننی چاہیے۔‘

صدر اوباما نے کہا ’برطانیہ کی صلاحیت نمایاں ہوتی ہے جب وہ یورپی یونین کو سمت دکھاتا ہے۔ امریکہ برطانیہ کے اثر و رسوخ میں اضافہ دیکھنا چاہتا ہے بشمول یورپی یونین میں۔‘

برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے یا اس سے نکل جانے سے متعلق ریفرنڈم رواں سال 23 جون کو کروایا جائے گا۔

اسی بارے میں