آنسوؤں کی وادی میں واپسی

ایک سال قبل جب نیپال میں زلزلہ آیا تھا تو وہاں تقریباً 9000 افراد ہلاک اور 20 ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔

جسٹن رولٹ کا شمار ایک سال مکمل ہونے پر زلزلے سے متاثرہ لانگ تانگ کے گاؤں میں پہنچنے والے پہلے صحافیوں میں ہوتا ہے۔

وادی لانگ تانگ بہت خوبصورت ہے اور ہمالیہ کی بلندوبالا پہاڑیوں کے درمیان صنوبر کے درختوں میں گھری ہوئی ہے۔ لیکن میں بہت پریشان تھا جب میں پانچ روز قبل وہاں سے ایک ہیلی کاپٹر کے ذریعے واپس لوٹا۔

جب میں پچھلی مرتبہ وہاں گیا تھا تو مجھے وہاں شدید دباؤ کے شکار مکین ملے تھے۔

مرکزی قصبہ جسے لانگ تانگ بھی کہتے ہیں بری طرح تباہ ہوگیا تھا۔

میری نگاہوں کے سامنے تباہ حال عمارتیں تھیں۔ یہ وہ جگہ ہے جہاں کبھی سیاحوں کی بھیڑ ہوتی تھی۔

زلزلے کے نتیجے میں وہاں لینڈ سلائیڈنگ ہوئی اور تودے آکر گرے جس کے نتیجے میں وہ پوری جگہ ہزاروں ٹن کی چٹانوں اور برف تلے دب کر رہ گئی۔

Image caption دندپ لامہ نے مجھے گذشتہ سال بتایا تھا کہ ہمارا سب کچھ تباہ ہو گیا ہے

یہاں کے مکین تبتی نسل سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ پہاڑوں کی طرح سخت جان ہیں لیکن جیسے ہی ہم ہیلی کاپٹر سے نیچے اتر کر ان سے ملے۔ جس سے بھی میں نے بات کی اس کی آنکھوں سے آنسو بہہ رہے تھے۔

دیندپ لامہ نے مجھے کہا کہ ’ ہم نے سب کچھ کھو دیا، یہاں ہر ایک کا حاندان ختم ہوگیا ہے۔‘

صرف ایک مکان رہ گیا ہے۔

وہاں ایک میدان میں ملبے کے ساتھ 52 لاشیں رکھی ہوئی تھیں۔

جیسے ہی ہم نے یہ سب دیکھا وہ ایک اور لاش کو لے آئے۔ جو ایک خاتون سیاح کی تھی۔ جس کے بال سٹریچر سے نیچے تک لٹک رہے تھے۔ یہ منظر دیکھ کر میں بھی رو پڑا۔

ہمیں پتہ چلا کہ وہاں درجنوں سیاحوں کے ساتھ 215 افراد ہلاک ہوئے۔

ایک سال گذر گیا اور پھردیندپ لامہ مجھ سے ملا۔ ہم ایک دوسرے سے بغلگیر ہوئے۔ اس نے مسکراتے ہوئے میرا خیرمقدم کیا۔

اس نے مجھے وہ گیسٹ ہاؤس دکھایا جو وادی میں سب سے اونچے مقام پر بنایا گیا تھا۔ بہت سے زندہ بچ جانے والے لوگ بھی وہیں منقتل ہو چکے تھے۔

بہت سے ایسے ہیں جو اب بھی عارضی رہائش گاہوں میں مقیم ہیں۔ جنھیں لوہے کے ڈنڈوں کی مدد سے بنایا گیا ہے۔

گرم چائے کی چسکیاں لیتے وقت مجھے فضا میں آری چلنے اور لکڑی کے کٹنے کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔

وہاں کے مکین دوبارہ زندگی شروع کرنے کے لیے کوششیں کر رہے ہیں۔

اگلی صبح ہم زلزلے کے نتیجے میں زندہ بچ جانے والوں کے ساتھ متاثرہ علاقے میں گئے۔

تبتیوں کے کیلنڈر کے مطابق وہاں آنے والی تباہی کو ایک سال مکمل ہوگیا تھا اور وہ سب لوگ پوچا پاٹ کے لیے اکھٹے ہوئے تھے۔

لیکن جیسے ہی ان کے روحانی سربراہ نے دعا کا آغاز کیا تو یہ واضح ہوگیا کہ اب بھی وہ سانحہ ان کے کتنے قریب ہے۔

مجھے وہاں لے جایا گیا جہاں برف بگھل چکی تھی اور وہاں تباہ حال عمارتوں کے ڈھانچے دکھائی دے رہے تھے۔

مجھے دیندپ لامہ نےوہ جگہ دکھائی جہاں اس نے اپنی والدہ کی لاش نکالی تھی۔

ایک لمحے کے لیے اس نے اپنا چہرہ دوسری جانب موڑ لیا۔

Image caption تاشی نے اپنی بیوی اور بیٹی اور والدہ کو کھویا

ایک اور شخص نے مجھے بتایا کہ وہ اور اس کی بیوی گاؤں کے سب سے اوپر والے حصے میں شفٹ ہونے کی تیاری کر رہے تھے۔

اس نے اپنی بیوی اور بیٹی کو اپنی ماں کے پاس چھوڑا اور خود گھوڑے پر سامان لادا لیکن 15 منٹ بعد زلزلہ آگیا اور وہ سب مر گئے۔

اس نے مجھے بتایا کہ فقط پندرہ منٹ میں سب ختم ہوگیا۔ اس کی آنکھوں میں اب بھی کرب تھا۔

Image caption میں ایک سال سے سو نہیں پایا: داوا شرپا

داوا شرپا نے اس زلزلے میں اپنی بیوی، بیٹے اور پوتے کو کھویا۔ وہ کہتے ہیں کہ اب میں اکیلا ہوں۔

اس کا چھرہ آنسوں سے بھیگا ہوا تھا۔

’جب میں اپنی آنکھیں کھولتا ہوں مجھے ان کی یاد آتی ہے۔ میں ایک سال سے سو نہیں پایا۔‘

جب ہم واپسی کے لیہ ہیلی کاپٹر میں سوار ہوئے تو میں نے پائلٹ سے کہا کہ وہ ہمیں وادی کے اوپر پہاڑوں کا منظر دکھائے۔

فضا سے بھی اس وادی میں ہونے والی تباہی کا منظر دکھائی دے رہا تھا۔

اب میں دیکھ سکتا تھا کہ زلزلے کے نتیجے میں گلیشیئر کی ایک پوری سائڈ وادی کے اوپر گر گئی تھی۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جس طاقت سے یہ گلیشیئر وادی پر گرا یہ ہیروشیما پر گرنے والے بم کی قوت سے نصف تھا۔

جیسے ہی ہم کھٹمنڈو سے واپس لوٹے ہم تباہ حال خانقاہوں کے قریب سے گزرے۔ وہاں سفید جھنڈوں کا جنگل تھا جو زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کے لیے تھے۔

ہم میں سے بہت سے ایسے ہیں جنھوں نے اپنے پیاروں کو کھویا ہوگا لیکن خوش قسمتی سے ہم میں سے بہت کم ایسے ہیں جنھوں نے اتنے بڑے پیمانے پر تباہی اور تکلیف دیکھی ہوگی۔