’تجارتی معاہدے سے معاشی ترقی کو فروغ ملے گا‘

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption صدر اوباما کے مطابق اس معاہدے سےامریکا اور یورپی یونین کے مابین تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہو جائیں گے

امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ امریکہ اور یورپ کے لیے ضروری ہے کہ وہ بحرالکال کے دونوں اطراف تجارت اور سرمایہ کاری کے مجوزہ معاہدے (ٹی ٹی آئی پی) پر آگے بڑھیں کیونکہ اس سےامریکہ اور یورپی یونین کے مابین تجارتی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔

برطانیہ کے بعد اتوار کی شام جرمنی پہنچنے کے بعد صدر براک اوباما نے جرمنی کی چانسلر انگیلا میرکل سے ملاقات کی ہے۔ اس ملاقات کے بعد دونوں رہنماؤں نے اخباری کانفرنس سے خطاب کیا۔

اس موقعے پر صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ٹرانس ایٹلانٹک ٹریڈ اینڈ انویسٹمنٹ پارٹرشپ (ٹی ٹی آئی پی) سے ملازمتوں میں بہتری آئے گی اور معاشی ترقی کو فروغ ملے گا۔

یاد رہے کہ جرمنی میں لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس معاہدے کے حق میں نہیں اور صدر اوباما کی آمد سے قبل اتوار کی صبح جرمنی کے وزیر معیشت نے اس معاہدے کے حوالے سے امریکی موقف پر تنقید کی تھی۔ اس کے علاوہ اتوار کو ہی جرمنی کے شہر ہینوور میں مجوزہ معاہدے کے خلاف ایک بڑا مظاہرہ بھی کیا گیا۔

ملاقات کے بعد اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے صدر براک اوباما نے شام میں بڑھتی ہوئے تشدد پر فکرمندی کا اظہار بھی کیا۔

اس سے قبل برطانیہ کے دورے کے دوران انہوں نے برطانیہ کے یورپی یونین کا حصہ رہنے اور شامی بحران کے معاملات سمیت اہم امور پر بات چیت کی۔

اس سے قبل دورہ برطانیہ کےدوران امریکی صدر براک اوباما نے شام میں زمینی افواج کی تعیناتی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ کہ شام کے بحران کا حل فوجی کاروائی نہیں بلکہ بات چیت ہے۔

صدر اوباما کا کہنا تھا کہ ’شام کا مسئلہ دل سوز اور پیچیدہ نوعیت کا ہے۔ میراخیال نہیں کہ شامی بحران کا کوئی آسان حل ہے۔میرے نقطہ نظر کے مطابق اگر امریکہ اور برطانیہ اسد کی حکومت ختم کرنے کے لیے شام میں زمینی دستےروانہ کریں گے توایک بڑی غلطی ہوگي۔‘

تاہم انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی برادری کو روس، ایران اور معتدل حزب اختلاف سمیت تمام فریقین پر دباؤ ڈالتے رہنا ہے کہ سب مل بیٹھ کر مسئلے کا حل تلاش کریں۔

تصویر کے کاپی رائٹ PA
Image caption برطانیہ سے پہلے صدر براک اوباما نے سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا۔

صدر براک اوباما نے اعتراف کیا کہ ان کے آخری نو مہینوں کے دور صدرات میں شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کا خاتمہ نہیں ہو سکے گا، تاہم امریکہ اور اسکے اتحادی رفتہ رفتہ ایسے ماحول کو کم کرتے جائيں گے جس میں شدت پسند سرگرم ہیں۔

شامی بحران کی وجہ سے تقریبا دو لاکھ پچاس ہزارافراد ہلاک ہوئے جبکہ لاکھوں گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

اس موقع پر لیبیا کی صورتحال پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’ہمیں لیبیا میں مثالی ماحول قائم کرنے کی بجائے بنیادی سہولیات پر توجہ دینی چائیے۔ ہم ان کی بارڈر سیکیورٹی اور پولیس کی تربیت کا کا م شروع کرسکتے ہیں، یہ دولت اسلامیہ کو شکست دینے کے لیے ہماری مجموعی مہم کا اہم جزو ہے۔‘

صدر اوباما جن کے عہدہ صدارت کی آخری مدت جنوری میں ختم ہو رہی ہے، گذشتہ ہفتے سے مختلف ممالک کے الوداعی دوروں پر نکلے ہوئے ہیں۔ برطانیہ سے پہلے انھوں نے سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا تھا۔

اسی بارے میں