مصر میں مظاہروں سے قبل ملک کے دفاع کی اپیل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption عبدالفتاح السیسی نے ٹی پر اپنے خطاب میں حکومت کے دفاع کی اپیل کی ہے

مصرکے صدر عبدالفتاح السیسی نے حکومت مخالف مظاہروں سے قبل ملک کے شہریوں سے حکومت اور ملکی اداروں کے دفاع کی اپیل کی ہے۔

ٹی وی پر اپنے خطاب میں صدر السیسی نے کہا کہ اگر ملک متحد ہوگا تو اسے غیر مستحکم کرنے کی کوششیں کامیاب نہیں ہو سکیں گی۔

پورے ملک میں سکیورٹی میں اضافہ کیا گیا ہے اور حکام نے انتباہ جاری کیا ہے کہ مظاہرین کے ساتھ سختی سے نمٹا جائے گا۔

خیال رہے کہ سعودی عرب سے کیے جانے والے ایک معاہدے کے بعد ملک میں بے اطمینانی میں اضافہ ہوا ہے جس کے تحت بحر احمر کے دو جزائر سعودی عرب کے دائرہ اختیار میں چلے گئے ہیں۔

صدر السیسی نے اپنے فیصلے کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ صنافیر اور تیران کے جزائر سدا سے سعودی عرب کے تھے۔

سیکولر اور بائیں بازو کے کارکنوں نے پیر کو مظاہرے کا اعلان کیا ہے اور یہ احتجاج کے خلاف ایک قانون کے خلاف بلایا گیا ہے جس کے تحت غیر قانونی اجتماع پر پابندی لگانے کا منصوبہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں سعودی عرب کو دو جزائر دیے جانے پر غم و غصہ پایا جاتا ہے

یہ مظاہرے چھٹی کے دن کے لیے طے کیے گئے ہیں جو کہ سینا جزیرہ نما سے سنہ 1982 میں اسرائیل کی واپسی کی یاد میں ہر سال منایا جاتا ہے۔

مسٹر السیسی نے کہا: ’میں دیکھ رہا ہوں کہ ایک بار پھر لوگ (مصر کی) سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچانے کے در پے ہیں۔‘ انھوں نے پھر سے کہا ’شیطانی‘ قوتیں ان کے ملک کے خلاف سازش کر رہی ہیں۔

انھوں نے کہا: ’ہماری ذمہ داری اپنی سلامتی اور استحکام کا دفاع ہے اور مصری باشندو! میں آپ سے وعدہ کرتا ہوں کہ پھر کوئی آپ کو دہشت زدہ نہیں کر سکتا۔‘

مصر کے اہم شہروں کے اہم مقامات پر فوجی تعینات کیے گئے ہیں اور قاہرہ میں بہت سے کارکنوں، صحافیوں اور وکیلوں کو ان کے گھروں اور کیفے میں محصور کر دیا گیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق مصر کے وزیر داخلہ ماجدی عبدالغفار نے ایک بیان میں کہا ہے سکیورٹی فورسز عوامی نظم و نسق کو بگاڑنے کی کسی بھی کوشش کے ساتھ سختی سے نمٹے گي۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption مصر میں مظاہروں اور غیر قانونی اجتماع پر پابندی کے لیے قانون لایا جا رہا ہے

مبصرین کا کہنا ہے کہ سکیورٹی فورسز کی حالیہ بےجا زیادتیوں اور ملک کی خراب معیشت کے سبب السیسی کے خلاف عوام میں عدم اطمینان پیدا ہوا ہے۔

سنہ 2013 میں صدر مرسی کو اقتدار سے ہٹانے کے بعد سے اب تک ایک ہزار سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ 40 ہزار سے زیادہ افراد کو اختلاف کی بنیاد پر قید کیا گیا ہے۔ ان میں سے بیشتر افراد کالعدم جماعت اخوان کے رکن ہیں۔

اسی بارے میں