کینیڈین شہری کے قتل پر وزیر اعظم ٹروڈو کی مذمت

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption کینیڈا کے وزیرِ اعظم نے جان ریڈل کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سفاکانہ اقدام قرار دیا

کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹُروڈو نے فلپائن میں اسلامی شدت پسندوں کے ہاتھوں اغوا کیے جانے والے کینیڈا کے مغوی شہری کو ہلاک کیے جانے کی مذمت کی ہے۔

انھوں نے جان ریڈل کی موت کی تصدیق کرتے ہوئے اسے سفاکانہ اقدام قرار دیا۔

ایک بیان میں کینیڈا کے وزیرِ اعظم ان کا کہنا تھا کہ ’کینیڈا اغوا کاروں کے اس ظالمانہ فعل اور غیر ضروری قتل کی مذمت کرتا ہے۔ یہ ایک سفاک عمل تھا کی ذمہ داری اس دہشت گرد گروہ پر عائد ہوتی ہے جس نے انھیں یرغمال بنا رکھا تھا۔‘

شدت پسند گروپ ابو سیاف نے 68 سالہ جان ریڈل کو گذشتہ برس ستمبر میں ایک سیاحتی مقام سے دیگر تین افراد کے ساتھ اغوا کیا تھا۔

وزیراعظم جسٹن ٹُروڈو نےجان ریڈل کے بارے میں بہت کم معلومات فراہم کرتے ہوئے کہا کہ وہ دوسری مغویوں کی سلامتی کو خطرے میں نہیں ڈال سکتے۔

ابو سیاف گروپ نے جان ریڈل کی رہائی کے بدلے تاوان دینے کی پیر تک کی مہلت دے رکھی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اب سیاف گروپ نے جان ریڈل کی رہائی کے بدلے تاوان دینے کی پیر تک کی مہلت دے رکھی تھی

شدت پسندوں کی جانب سے جاری کی جانے والی ایک ویڈیو میں جان ریڈل دیگر مغویوں کے ساتھ نظر آئے تھے جس میں شدت پسندوں کی جانب سے لاکھوں ڈالر تاوان کے مطالبے کے بعد وہ اپنی رہائی کی اپیل کر رہے تھے۔

ابو سیاف گروپ کا قیام 1990 میں شدت پسند تنظیم القاعدہ کی مالی معاونت سے ہوا تھا اور یہ فلپائن میں ایک آزاد اسلامی صوبے کے لیے سرگرم ہے۔

اس کے چند کمانڈروں نے حالیہ ہی میں خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم سے وفاداری کا اعلان کیا تھا۔

اس وقت اس گروپ نے متعدد غیر ملکیوں کو مغوی بنا رکھا ہے۔

رواں ماہ کے شروع میں ابو سیاف گروپ کے ساتھ جھڑپوں میں فلپائن کی فوج کے کم سے کم 18 فوجی ہلاک ہو گئے تھے۔

فوج کے مطابق گروپ کے خلاف کارروائی کا فیصلہ ان کی جانب سے غیر ملکیوں کے اغوا کی سلسلہ وار وارداتوں کے بعد کیا۔