لائبیریا: پرائمری سکولوں کی نجکاری کا منصوبہ

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption تقریباً 50 کے قریب طالب علم ہیں جن میں سے کچھ کرسیوں کی کمی کے باعث کھڑے ہیں

لائبیریا نے تمام پرائمری اور نرسری سکولوں کو نجی کمپنیوں اور خیراتی اداروں کے سُپرد کرنے کا انقلابی منصوبہ بنایا ہے۔

دارالحکومت مونرویا کی شاہراہ صومالیہ ڈرائیو پر واقع ایک پرائمری سکول کی پہلی جماعت کے سبق کا مشاہدہ کر کے یہ بات بہت آسانی سے سمجھ میں آ جاتی ہے کہ ملک کے تعلیمی نظام میں کون سی تبدیلیاں کرنے کی ضرورت ہے۔

کمرہ جماعت میں تقریباً 50 کے قریب طالب علم ہیں جن میں سے کچھ کرسیوں کی کمی کے باعث کھڑے ہیں۔ استاد کو شورشرابے کی وجہ سے سُننے میں مشکل پیش آ رہی ہے اور یہاں پڑھانے کے خاطر خواہ وسائل دستیاب نہیں ہیں۔

ملک کے نظامِ تعلیم کو سنہ 2013 میں صدر ایلن جانسن سرلیف نے ’انتشار‘ قرار دیا تھا کیوں کہ اس سال ہائی سکول کے 25 ہزار طالب علم لائبیریا یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے تھے۔

وزیرِتعلیم جارج ورنر ملکی سکولوں کو مغربی افریقہ کے دیگر ممالک کے سکولوں کے برابر لانے کے لیے ڈرامائی تبدیلی لانے کا طریقہ تلاش کر رہے ہیں۔

انھوں نے تسلیم کیا ہے کہ کئی سالوں سے جاری تنازعے اور حالیہ ایبولا وائرس کی وبا کی وجہ سے تعلیمی نظام ’گذشتہ تین دہائیوں سے تنزل کا شکار ہے۔‘ انھوں نے مزید کہا کہ ’اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ہمارے طلبہ ذہین نہیں ہیں بلکہ نظام انھیں ناکام بنا رہا ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ انھوں نے مسائل کے بتدریج حل کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر ایک طویل المیعاد منصوبہ جاری کیا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption 2013 میں صدر ایلن جانسن سرلیف نے ’انتشار‘ قرار دیا تھا کیوں کہ اس سال ہائی سکول کے 25 ہزار طالب علم لائبیریا یونیورسٹی میں داخلے کا امتحان پاس کرنے میں ناکام رہے تھے

ستمبر میں ایک پائلٹ منصوبے کا آغاز ہو رہا ہے جس میں ملک کے پانچ ہزار سکولوں میں سے 50 کو کینیا کی کمپنی برج انٹرنیشنل اکیڈمیز کے سُپرد کیا جائے گا۔

تعلیم اب بھی مفت ہو گی لیکن سکولوں کا نظم ونسق حکومت کے پاس نہیں ہو گا۔ برج انٹرنیشنل اکیڈمیز کینیا میں 359 اور یوگینڈا میں سات سکولوں کا نظام چلاتی ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ ایک ایسے نظام میں بہتری کی بہت گنجائش موجود ہے جس میں پرائمری سکول کے پانچ بچوں میں سے صرف ایک ہی سیکنڈری سکول پاس کرتا ہے۔

کینیا میں کامیابی

برج انٹرنیشل اکیڈمیز نے کئی نقشے شائع کیے ہیں جس میں بتایا گیا ہے کہ کینیا کے سکول کس طرح ریاضی اور مطالعے کے مضامین میں سرکاری سکولوں کے مقابلے میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔

یہ دیکھنا آسان ہے کہ کس طرح وزیرِ تعلیم کسی نجی کمپنی کو موقع دینے کے لیے مائل ہوئے ہوں گے، لیکن کچھ لائبیرین اساتذہ اس سے متفق نہیں ہیں۔

مونرویا کے ایک پرائمری سکول کے استاد جوزف کوموریا نے ملک کے سکولوں کو کسی اور کے سُپرد کرنے کے منصوبے کو ’باعثِ شرمندگی‘ قرار دیا ہے۔ انھوں نے کہا ہے کہ لائبیریا والوں کو خود اپنے سکولوں کو بااختیار بنانے کی ضرورت ہے۔

اُن کا خیال ہے کہ سکولوں کی خراب کارکردگی کی ایک وجہ اساتذہ کی کم تنخواہیں ہیں جس کی وجہ سے اساتذہ ایک سے زائد سکولوں میں ملازمت اختیار کرنے پر مجبور ہو جاتے ہیں اور اس سے ’اُن کی توانائی ضائع ہو جاتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption حالیہ ایبولا وائرس کی وبا کی وجہ سے تعلیمی نظام ’گذشتہ تین دہائیوں سے تنزل کا شکار ہے

اُن کے ایک اور ساتھی استاد کے مطابق ’لائیبیرین قابل ہیں اور اساتذہ کام کرنے کے خواہاں ہیں۔ جب وہ کہتے ہیں کہ بچے کارکردگی نہیں دکھا رہے تو ہم اس سے اتفاق نہیں کرتے۔‘

اس پائلٹ پروگرام میں لائبیرین اساتذہ اب بھی کمرہ جماعت میں رہیں گے اور انھیں حکومت کی جانب سے تنخواہیں ادا کی جائیں گی، لیکن برج انٹرنیشنل اکیڈمیز ان کی کارکردگی پر نظر رکھے گی۔

حکومت اساتذہ کو تنخواہیں ادا کرنے کی پابند ہے اور اس کا کہنا ہے کہ وہ اپنے سکولوں کی نگرانی کے لیے برج انٹرنیشنل اکیڈمیز کو کوئی ادائیگی نہیں کر رہی۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ وہ کہیں اور سے فنڈنگ تلاش کرے گی۔

حقوق کی خلاف ورزی

تصویر کے کاپی رائٹ
Image caption سکولوں کی خراب کارکردگی کی ایک وجہ اساتذہ کی کم تنخواہیں ہیں

لائبیرین نظامِ تعلیم کو نجی ہاتھوں میں دینے کے منصوبے پر اقوامِ متحدہ کے تعلیم کے حق کے لیے متعین خصوصی نمائندے کشور سنگھ نے بھی ناراضی کا اظہار کیا ہے۔

مارچ میں انھوں نے کہا تھا کہ ’عوام کی فلاح کے لیے تعلیم کا تصور حملے کی زد میں ہے۔‘

کشور سنگھ نے مزید کہا تھا کہ ’عوام کے لیے معیاری تعلیم کی فراہمی ریاست کی اہم ذمہ داری ہے، اور کسی نجی کمپنی کے تجارتی فائدے کے لیے دستبردار ہو جانا تعلیم کے حق کی سراسر خلاف ورزی ہے۔‘

لیکن ورنر کا خیال ہے کہ تنقید ’سے کوئی فائدہ نہیں ہو گا‘ اور اس کا نتیجہ صرف تبھی نکل سکتا ہے کہ اساتذہ تنظیموں سے بات چیت کی جائے۔

لوگوں کے دماغوں کو تبدیل کرنے کی جنگ ستمبر میں اس وقت شروع ہو گی جب برج انٹرنیشنل اکیڈمیز لائبیرین بچوں کی پہلے کھیپ کو پڑھانے کا آغاز کرے گی۔

اگر یہ آغاز اچھی طرح سے ہو گیا تو حکومت مزید نجی کمپنیوں کی تلاش میں ہو گی جو ملک کے تعلیمی نظام کا کایا پلٹ دیں۔

اسی بارے میں