مِٹسوبشی کمپنی کا اعتراف

تصویر کے کاپی رائٹ Getty Images

گاڑیاں تیار کرنے والی کمپنی مٹسوبشی موٹرز نے اعتراف کیا ہے کہ اُن کی کمپنی سنہ 1991 سے ایندھن خرچ کرنے کی غلط جانچ کر رہی ہے۔

کمپنی کی جانب سے یہ اعتراف گذشتہ ہفتے سامنے والے انکشافات کے بعد کیا گیا ہے، جس میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ جاپان میں فروخت ہونے والی چھ لاکھ سے زائد گاڑیوں میں ایندھن کی بچت کے اعداد و شمار میں غلط بیانی سے کام لیا گیا ہے۔

کمپنی کے صدر ٹیٹسرو آئکاوا کا کہنا ہے کہ اِس حوالے سے تحقیقات جاری ہیں اور اُن کو لگتا ہے کہ تحقیقات میں مزید بےقاعدگیاں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔

ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ اِس سے کتنی گاڑیاں متاثر ہوئی ہیں۔

منگل کو ٹوکیو سٹاک ایکسچینج میں کمپنی کے حصص کی قیمت مزید دس فیصد گر گئی۔ سکینڈل کے سامنے آنے کے بعد سے اس کے حصص کی قیمت مجموعی طور پر 50 فیصد گر گئی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

آئکاوا کا کہنا ہے کہ اُنھیں نہیں معلوم کہ ملازمین گاڑیوں کی مائلیج کو بہتر دکھانے کے لیے ایندھن کے خرچ کی غلط جانچ کیوں کر رہے تھے۔

مٹسوبشی 15 سال قبل بریک فیل ہونے، کلچ کی خرابی اور ایندھن کے ٹینک کاروں سے گرنے کی شکایات کے بعد محنت کر کے دوبارہ صارفین کا اعتماد بحال کرنے میں کامیاب ہوئی تھی۔

مائلیج کی غلط جانچ کرنے والی گاڑیوں میں 157,000 اِک ویگن اور اِک سپیس منی گاڑیاں، اور نسان کے لیے تیار ہونے والی 468,000 ڈیز اور ڈیز روکس گاڑیاں شامل ہیں۔

تمام کی تمام گاڑیاں جاپان میں فروخت کی گئی ہیں۔

اسی بارے میں