چرنوبل حادثے کی 30 ویں برسی پر تقریبات

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption حادثے کی یاد میں مختلف مقامات پر تقاریب منعقد ہوئیں

یوکرین میں چرنوبل میں ہونے والے جوہری حادثے کی 30 ویں برسی کے موقعے پر تقریبات کا آغاز ہو چکا ہے۔

یوکرین کے چرنوبل جوہری پلانٹ میں 26 اپریل سنہ 1986 کو تاریخ کا سب سے بڑا جوہری سانحہ پیش آیا تھا اور اسی مناسبت سے منگل کو اسی وقت سائرن بجائے گئے۔

اس سانحے میں زوردار دھماکے نے چھت اڑا دی اور تابکار مادہ فضا میں بکھر کر یوکرین کی سرحد کے پار روس، بیلاروس اور شمالی یورپ کے بڑے حصے تک پہنچ گیا۔

سلاووٹچ شہر میں اس سانحے کی یاد میں ایک تقریب کا انعقاد کیا گیا جہاں جوہری پلانٹ کے پاس رہنے والے لوگوں کی دوبارہ آبادکاری کی گئی ہے۔

یوکرین کے صدر پیٹرو پوروشینکو جوہری پلانٹ کے قریب منعقد ہونے والی تقریب میں شرکت کریں گے جبکہ دارالحکومت کیئف میں متاثرین کے اہل خانہ کے لیے ایک دعائیہ تقریب منعقد کی جائے گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption حادثے کا شکار لوگوں کی تصاویر

اس علاقے کے بعض سابق رہائشی اس لاوارث، اجاڑ اور جنگل میں تبدیل شدہ جگہ واپس آ گئے ہیں۔

66 سالہ زویا پیریووزشینکو پریپیاٹ نامی شہر میں رہتی تھیں جہاں چرنوبل میں کام کرنے والے لوگ رہائش پذیر تھے اور جسے حادثے کے بعد خالی کر دیا گیا تھا۔

انھوں نے خبر رساں ایجنسی روئٹرز سے کہا: ’میں اپنا گھر پہنچان نہیں سکی۔ اب یہ جنگل بن چکا ہے، سیڑھیوں اور چھتوں پر پیڑ پودے اگ آئے ہیں۔ سارے کمرے خالی ہیں، شیشے ٹوٹ چکے ہیں اور دروازے اور کھڑکیاں تباہ ہو چکی ہیں۔‘

علاقے میں تابکاری کی سطح ابھی بھی زیادہ ہے۔ برجز ٹو بیلاروس نامی ایک رضاکار ادارے نے متنبہ کیا ہے کہ یوکرین کی سرحد کے پرے ابھی بھی بچے بہت سے پیدائشی نقائص کے ساتھ پیدا ہو رہے ہیں اور لوگوں میں شاذ و نادر ہونے والے کینسر کی شرح زیادہ ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jerzy Wierzbicki
Image caption اب یہ علاقہ سنسان ہے اور جنگل میں تبدیل ہو چکا ہے

دنیا بھر کے عطیات دینے والے مخیر اداروں اور لوگوں نے اس علاقے میں جوہری کوڑے کو ٹھکانے لگانے کے لیے نئی زیر زمین سہولیات تعمیر کرنے کے لیے پیر کو تقریبا نو کروڑ 90 لاکھ ڈالر کا عہد کیا ہے جبکہ مزید ایک کروڑ ڈالر یوکرین کے ذمے رکھا گیا ہے۔

اس متاثرہ پلانٹ میں ابھی بھی تقریباً 200 ٹن یورینیم ہے جسے محفوظ کرنے کا کام 2010 میں شروع کیا گیا تھا۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر خستہ حال ری ایکٹر کا کوئی حصہ گر جاتا ہے تو مزید تابکار مادے فضا میں پھیل سکتے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Jerzy Wierzbicki
Image caption جوہری کوڑے کو ٹھکانے لگانا اہم ہے

اس حادثے میں ابتدا میں 30 افراد ہلاک ہوئے تھے لیکن سنہ 2005 میں شائع ہونے والی اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس سے متعلق بیماریوں کی زد میں آ کر مرنے والوں کی تعداد تقریباً چار ہزار تھی تاہم گرین پیس کا کہنا ہے کہ اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اعداد و شمار کو کم پیش کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں