’والد پرورش کرتے ہیں بےبی سِٹنگ نہیں‘

تصویر کے کاپی رائٹ facebook.comTheDadNetwork
Image caption آج کے دور کا باپ اپنی گھریلو زندگی میں پہلے زمانے سے زیادہ حصہ لیتا ہے: ال فرگوسن

’ہائے! کتنا اچھا ہے کہ آپ بچوں کو سنبھالیں اور ان کی ماؤں کو کچھ آرام کرنے دیں۔‘

’میرا خیال ہے کہ آج بچوں میں پھنس گئے تھے۔‘

’آپ کو ایک اچھا مددگار مل گیا ہے۔‘

سماجی رابطے کی ویب سائٹ ریڈ اٹ پر موجود یہ وہ چند جملے ہیں جو اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنے والے والد سے کہے گئے ہیں۔

یہ موضوع انٹرنیٹ پر ایک زوردار بحث کی شکل اختیار کرگیا ہے۔

اس بحث کا آغاز تب ہوا جب ایک صارف نے انٹرنیٹ پر ایسی ٹی شرٹ پہنے تصویر اپ لوڈ کی۔ جس پر لکھا تھا کہ ’باپ بے بی سِٹنگ نہیں کرتے، بلکہ اسے بچوں کی پرورش کہتے ہیں۔‘

اس تصویر میں جو شخص یہ ٹی شرٹ پہنے ہوئے ہیں ان کا نام ال فرگوسن ہے اوراوہ دی ڈیڈ نیٹ ورک نامی تنظیم سے تعلق رکھتے ہیں۔

انھوں نے کچھ عرصہ قبل اس ٹی شرٹ میں ملبوس اپنی تصویر آن لائن پوسٹ کی تھی لیکن یہ تصویر ریڈ اٹ پر آنے کے بعد مشہور ہوگئی اور لوگ بچوں کی پرورش کے بارے میں دقیانوسی تصورات پر اپنے خیالات کا اظہار کرنے لگے۔

ال فرگوسن نے بی بی سی ٹرینڈنگ کو بتایا کہ ’لوگ مجھ سے سوال کرتے ہیں کہ کیا آپ آج کل بچوں کی دیکھ بھال کررہے ہیں؟ یا پھر یقیناً آج اپنے بے بی کا لباس تبدیل کروا کر آئے ہیں؟‘

وہ کہتے ہیں کہ ’یہ سب پرانی باتیں ہیں۔ آج کے دور کا باپ اپنی گھریلو زندگی میں پہلے زمانے سے زیادہ حصہ لیتا ہے۔ یہ ایک فرسودہ خیال ہے کہ بچوں کی دیکھ بھال کی بنیادی ذمہ داری ماں پر ہی عائد ہوتی ہے۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Al Ferguson The Dad Network
Image caption ’دی ڈیڈ نیٹ ورک‘ کے بانی ال فرگوسن بطور والد کےاپنےتجربات کو دستاویزی شکل دے رہے ہیں

حالانکہ ایسے مردوں کی تعداد میں روز بہ روز اضافہ ہورہا ہے جو گھر پر رہ کر اپنے بچوں کی دیکھ بھال کرنا چاہتے ہیں لیکن 2014 میں کی گئی تحقیق کے مطابق صرف 16 فیصد باپ ایسے ہیں جو اپنے بچوں کی پرورش کی بنیادی ذمہ داری نبھا رہے ہیں۔

تین ہزار سے زیادہ افراد نےاس بات سے اتفاق کیا کہ باپ کا پچوں کی پرورش کرنا بی بے سِٹنگ ہی کہلائے گا۔

کئی والدوں نے ریڈ اٹ پر اپنے تجربات بھی شیئر کررہے ہیں۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’میں نے جب گھر پر رہ کر اپنے بچوں کی پرورش شروع کی تو لوگوں کی باتوں نے مجھے بہت دکھ دیا۔ اور کبھی کبھی تو مجھے واقعی رونا آتا تھا کیونکہ ایسا لگتا تھا کہ وہ مجھے بچوں کی پرورش کرتا ہوا دیکھنا نہیں چاہتے تھے۔‘

دیگر افراد نے اس بحث کو پھیلاتے ہوئے کہا ہے کہ عام طو پر جب باپ اپنے بچوں کی پرورش کا ذمہ لیتا ہے تو اسے جنسی تفریق کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔

ریڈ اٹ پر موجود ایک اور صارف نے کہا ہے کہ ’اس طرح کے خیالات سے مجھے وہ اشتہارات یاد آتے ہیں جن میں یہ دکھانے کی کوشش کی جاتی ہے کہ ماں کی غیر موجودگی میں باپ بچوں کو سنبھال نہیں پاتا۔ وہ چیزوں کو بے ترتیب کردیتا ہے۔ بچے الگ بوکھلائے ہوئے ہیں۔ باپ کو یہ بھی نہیں معلوم کہ کھانا کیسے پکانا ہے، صفائی کیسے کرنی ہے اوربچوں کی ڈائپر کیسے تبدیل کرنی ہے وغیرہ وغیرہ۔‘

ایک اور صارف لکھتے ہیں کہ ’میں اکیلے ہی اپنے بچوں کی پرروش کر رہا ہوں۔ اُس وقت بہت مشکل ہوتی، جب میری سات سالہ بیٹی سلیپ اوور (دیگر بچوں کو گھر پر بلا کر رات گزارنا) کی خواہش کرتی ہے۔ اور جب میں ان بچوں کے والدین کو فون کر کے کہتا ہوں کہ کہ میری بیٹی سلیپ اوور کے لیے آپ کے بچوں بلانا چاہتی ہے تو فورا سوال کیا جاتا ہے کہ کیا اُس کی ماں بھی موجود ہوگی؟‘

انھوں نے کہا کہ جواب نہیں میں سننے کے بعد دوسری طرف ایک طویل خاموشی چھا جاتی ہے۔ اور یہی وجہ ہے کہ میری بیٹی نے آج تک اپنے دوستوں کو رات گھر پر بلا کر پارٹی نہیں کی۔

دیگر لوگوں اسے جنسی امتیاز ماننے سے انکار کیا ہے۔

ایک صارف نے لکھا ہے کہ ’میرے شوہراکثر مجھ سے کہتے ہیں کہ میں انھیں گذشتہ ہفتوں میں بچوں کی بے بی سٹنگ کرنے کا معاوضہ دوں۔ میں کہتی ہوں کہ آپ ان بچوں کے باپ ہیں۔ آپ ان کی پرورش کررہے تھے۔‘

ال فرگوسن کہتے ہیں کہ بچوں کی پرورش کے بارے میں عورت اور مرد کی جنسی تفریق کے بارے میں دقیانوسی خیالات کو دور کرنے کے علاوہ وہ کئی اور رکاوٹوں کو بھی دور کرنے کے لیے لڑ رہے ہیں جن میں بچوں کے ڈائپر تبدیل کرنے کی جگہ کو خواتین کے باتھ روم تک مخصوص ہونا ہے۔

’ آج کل کام کرنے والی ماؤں اور گھر پر رہ کر بچوں کی پرورش کرنے والے مردوں کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ روایت کی تبدیلی ہے۔ اور میرا خیال ہے کہ لوگ وقت کے ساتھ ان چیزوں سے سمجھوتہ کرلیں گے۔‘

اسی بارے میں