غوش عتیصون: بیت المقدس کا خونی چوک

یروشلم (بیت المقدس) میں ایک ایسا چوک ہے جو اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کے درمیان پرتشدد کارروائیوں کی علامت بن چکا ہے۔ یہ ہے غوش عتیصون چوک جہاں چند ماہ میں سینکڑوں پرتشدد واقعات پیش آ چکے ہیں۔

ہم نے جب الخلیل سے یروشلم کی جانب سفر اختیار کیا تو اسرائیلی پولیس نے سڑک بند کر رکھی تھی۔ ہم ایک فلسطینی نوجوان کے والد کا انٹرویو کر کے آ رہے تھے جس نے اسی چوک پر اسرائیلی فوجی پر چاقو سے وار کیا تھا۔ اس کے بعد اس نوجوان کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا گیا۔

یہ سڑک اس لیے بند کی گئی تھی کہ کچھ دیر قبل ہی ایک فلسطینی شخص کو ہلاک کیا گیا جس نے سکیورٹی فورسز پر مبینہ طور پر حملہ کیا تھا۔ غوش عتیصون وہ چوک ہے جہاں اسرائیلیوں اور فلسطینیوں کا آمنا سامنا ناگزیر ہے۔ حالیہ عرصے میں مغربی کنارے پر یہ ایک نہایت ہی خطرناک جگہ بن چکی ہے۔

قریب ہی واقع یہودی بستیوں کے برطانوی نژاد اسرائیلی سکیورٹی افسر ڈینیئل ہینسن کا کہنا ہے: ’اس چوک کے چپے چپے نے دہشت گرد حملے دیکھے ہیں۔ بدقسمتی سے جہاں ہم کھڑے ہیں اسی جگہ دو اسرائیلی شہریوں کو ہلاک کیا گیا تھا۔‘

انھوں نے ہمیں وہ جگہ بھی دکھائی جہاں پتھروں کے بیچ اسرائیلی پرچم لہرا رہا تھا۔ اس مقام پر ایک طالبہ اور ایک ریزرو فوجی کو ہلاک کیا گیا تھا۔

اس چوک کے قریب ہی واقع رامی لیوی سپر مارکیٹ ہے جہاں اسرائیلی شاپنگ کرنے کے لیے بڑی تعداد میں آتے ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر اس چوک کے قریب ہی واقع 20 یہودی بستیوں میں رہتے ہیں۔ ان میں سے کئی افراد نے اب بندوقیں اٹھا لی ہیں۔

عام طور پر ان حملوں کی وجہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مغربی کنارے پر قبضہ اور یہودی بستیوں کی توسیع کے خلاف فلسطینیوں کا غصہ بتایا جاتا ہے۔ لیکن ڈینیئل سمجھتے ہیں کہ ان حملوں میں اضافے کی وجہ اشتعال ہے۔

’فلسطینی ٹی وی چینلوں پر ایسے ویڈیوز اور کارٹونز دکھائے جاتے ہیں جن میں لوگوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ جائیں اور شہید ہو جائیں۔ جاؤ اور یہودی کو چھرا گھونپو، اسرائیلی کو چھرا گھونپو۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

پرتشدد کارروائیوں میں اضافے کی ایک وجہ مسجد الاقصیٰ کے احاطے کے حوالے سے خدشات ہیں۔ کچھ عرصہ قبل یہ خبر پھیلی تھی کہ اسرائیل مسجد الاقصیٰ میں غیر مسلموں کو عبادت نہ کرنے دینے کی پالیسی میں تبدیلی لا رہا ہے، تاہم اسرائیل نے اس کی تردید کی تھی۔

لیکن الخلیل میں اس 19 سالہ نوجوان فلسطینی کے والد، جس نے غوش عتیصون میں اسرائیلی فوجی پر حملہ کیا تھا، کا کہنا ہے کہ ان کے بیٹے کی ترغیب محض مذہبی نہیں تھی۔ انھوں نے کہا کہ ان کے بیٹے نے کئی فلسطینی نوجوانوں کو اسرائیلیوں پر حملے کرتے دیکھا اور پھر ان کی ہلاکت دیکھی اور وہ بھی ایسا کرنے پر مائل ہو گیا۔

نادی ابو شیخدم نے کہا: ’الخلیل میں اس وقت صورت حال بہت خراب تھی۔ ازلادین فیس بک پر صورتِ حال پر نظر رکھے ہوئے تھا۔ چیک پوسٹوں پر بہت سے لوگ مارے گئے بشمول لڑکیوں کے۔ اس کی وجہ سے ہمارے نوجوانوں میں غصہ اور بڑھ گیا۔ وہ بدلہ لینے گئے۔‘

غوش عتیصون چوک کے قریب واقع الون شووت یہودی بستی کے سائناگوگ میں یاکون ڈون کے بیٹے ایک ماتمی اجتماع میں شامل ہیں۔ گذشتہ نومبر یاکون کو، ، ہلاک کر دیا گیا تھا۔وہ استاد تھے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

ان پر ایک فلسطینی نے اسی چوک میں فائرنگ کی۔ اس فائرنگ کے نتیجے میں ایک امریکی طالب علم اور ایک فلسطینی ڈرائیور بھی ہلاک ہو گیا۔

یاکون ڈون کے بیٹے مایور ڈون کا کہنا ہے: ’حملہ آور کو اس بات پر بھی افسوس نہیں کہ اس نے ایک فلسطینی کو ہلاک کیا۔ ان لوگوں کے دلوں میں اتنی نفرت ہے۔ وہ صرف قتل کرنا چاہتے ہیں، امن نہیں چاہتے۔‘

اس واقعے کے باوجود ڈون خاندان اسی یہودی بستی میں رہنا چاہتا ہے۔ ’ضروری ہے کہ ہم یہیں رہیں۔ تاریخی طور پر یہ مقام یہودیوں کے لیے بہت اہم ہے۔‘ 20 ویں صدی کے آغاز پر یہودیوں نے یہ علاقہ خریدا تھا۔ لیکن عرب افواج کے خلاف 1948 کی جنگ میں ان یہودیوں کو اس علاقے سے یا تو نکال دیا گیا یا مار دیا گیا۔1967 کی جنگ کے بعد جب اسرائیل نے اس علاقے پر قبضہ کیا تو یہودی یہاں واپس آ گئے۔

یہودی بستیوں کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق غیرقانونی قرار دیا جاتا ہے لیکن اسرائیل اس سے متفق نہیں ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

اس وقت غوش عتیصون پرانے زمانے کے مقابلے میں 30 گنا بڑا ہے کیوں کہ فلسطینیوں کے علاقوں کو بھی اس میں شامل کر لیا گیا ہے۔ تاہم غوش عتیصون میں ساڑھے چار ہزار فلسطینی کام کرتے ہیں۔ یہ ایک ایسا مشکل معاشی تعلق ہے، لیکن یہودی کا کہنا ہے کہ امن سے رہنے کے لیے یہ ایک اچھا ماڈل ہے۔

خربیت الزکریا ایک فلسطینی گاؤں ہے جس کے ارد گرد یہودی بستیاں آباد ہیں۔ اس گاؤں کے رہائشی محمد سعد کا کہنا ہے: ’یہاں رہنا مشکل ہے۔ یہودی ہمیں تعمیر کرنے سے منع کرتے ہیں اور ہماری زمین ہم سے چھین لی گئی ہے۔ ہماری فصل ناکافی ہے اس لیے بچے پالنے کے لیے ہمارے لیے یہودی بستیوں میں کام کرنا ضروری ہے۔‘

انھوں نے کہا ’غوش عتیصون چوک پر حملوں کے بعد ہم بالکل تنہا ہو گئے ہیں۔ ایک نئی چیک پوسٹ قائم ہو گئی ہے اور صرف ان لوگوں کو اس گاؤں میں آنے کی اجازت ہے جن کے پاس اس گاؤں کا شناختی کارڈ ہے۔‘

اسی بارے میں