خالصتان تحریک کے بینر پر بندوق کی تصویر

تصویر کے کاپی رائٹ ADRIAN GOLDBERG

برطانیہ میں سکھ برادری کی ایک تقریب میں خالصتان تحریک کے بینر پر بندوق کی تصویر لگانے پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

برطانیہ میں سکھ برادری کے تہوار بیساکھی کی تقریب میں ایک جھنڈا آویزاں کیا گیا تھا، جس میں علیحدہ سکھ ریاست کے حق میں نعرے کے ساتھ بندوق کی تصویر بھی نمایاں تھی۔

برطانوی پارلیمان کے رکن نے اِس عمل کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

’خالصتان زندہ باد‘ کا نعرہ برمنگھم میں بیساکھی کی تقریب میں آویزاں کیا گیا تھا۔ خالصتان ایک آزاد ریاست کا نام ہے، جس کے حصول کے لیے سکھ برادری کا ایک حصہ جدوجہد کر رہا ہے۔

خالصتان زندہ باد فورس نامی تنظیم یورپی یونین کی کالعدم دہشت گرد تنظیموں کی سرکاری فہرست میں شامل ہے۔

مقامی رُکن پارلیمان خالد محمود کہتے ہیں کہ یہ بینر ’بنیادی تہذیب کے خلاف ہے‘۔

اِس نعرے کا مطلب ’خالصتان زندہ باد‘ ہے اور کچھ لوگوں کی نظر میں بندوق انقلاب کی علامت ہے۔

اُن کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں ایک خاندانی تقریب میں اِس طرح کے ہتھیار کی نمائش بنیادی تہذیب کے خلاف ہے۔‘

بی بی سی ایشین نیٹ ورک سے گفتگو کرتے ہوئے خالد محمود کا کہنا تھا کہ ’میں اب بھی خالصتان تحریک کی حمایت کرتا ہوں۔ لیکن میں جھنڈے پر کلاشنکوف کی نمائش کی حمایت نہیں کرتا۔ کشمیر اور خالصتان میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں، اور میں اِن لوگوں کے ساتھ ہوں۔ جس طرح سے وہ زندگی گزارنا چاہتے ہیں، اُن کو اِس کا حق ملنا چاہیے۔‘

ساتھ ہی ساتھ اُن کا یہ بھی کہنا تھا کہ ’آپ یہ کیے بغیر بھی اِس کیس کو بہتر بنا سکتے ہیں۔ نائن الیون واقعے کے بعد سے اِس طرز کی تقریبات اور نمائش کے ذریعے سے لوگوں کو اپنے کیس کے ساتھ آگے بڑھنے کی اجازت نہیں ہے۔

اگر آپ خالصتان تحریک کے حامی ہیں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا حل چاہتے ہیں تو اِس مقدمے کو بنیادی انسانی حقوق کے تحت تیار کریں، اِس کے بعد آپ کو اِس طرح کے ہتھیاروں کی نمائش نہیں کرنا پڑے گی۔ اِس تحریک کے دوست کی حیثیت سے میں یہ کہنے کی کوشش کر رہا ہوں کہ اِس کو دیکھیں اور آگے بڑھنے کی کوشش کریں، پیچھے جانے کی نہیں۔‘

سکھ فیڈریشن کے جسویر سنگھ گِل کا کہنا تھا: ’آپ کو یہ یاد کرنے کی ضرورت ہے کہ سکھ کس صورت حال سے گزرے ہیں۔ خالصتان زندہ باد کے جھنڈے میں کلاشنکوف کا نشان سکھ برادری کے ماضی کے سیاہ دور کی یاد دہانی کے لیے تھا۔ کوئی اِس دور کو واپس نہیں لانا چاہتا، تاہم کوئی اِس کو بھول بھی نہیں سکتا۔‘

برمنگھم سٹی کونسل کا کہنا ہے کہ ’کوئی شخص توجہ حاصل کرنے کے لیے یہ جھنڈا لے کر آیا تھا۔ اِس تقریب میں شریک ایک مقامی افسر نے اِس کو نیچے اتارنے کا کہا تھا، تاہم کسی نے ایسا نہیں کیا۔‘

سکھ فیڈریشن کے دویندر سنگھ کہتے ہیں کہ اِس کو حالات کے تناظر میں غلط سمجھا جا رہا ہے اور یہ جھنڈا سکھ ریاست کی تحریک کے فروغ کے لیے تھا، نہ کہ تشدد کے لیے۔‘

کئی لوگوں نے بی بی سی ایشین نیٹ ورک کے پروگرام ’نہال شو‘ میں اِس خبر کے متعلق فون کیا۔

ایک فون کالر دیس کہتے ہیں: ’میں کسی بھی نشان یا علامت کے خلاف ہوں۔‘

اسی بارے میں