دنیا میں سب سے مہنگا تعمیراتی منصوبہ کون سا ہے؟

تصویر کے کاپی رائٹ iStock

یہ سچ ہے یا جھوٹ؟ برطانیہ میں ایک جوہری پاور پلانٹ اس وقت کرہ ارض پر مہنگی ترین چیز ہوگی۔ یہ دعویٰ سمرسیٹ میں تجویز کردہ ہنکلی پوائنٹ کے بارے میں کیا جا رہا ہے۔ تاہم کیا کسی اور عمارت کی تعمیر پر کبھی اتنا زیادہ خرچ آیا ہے؟

ماحولیات سے وابستہ فلاحی ادارے گرین پیس نے گذشتہ ماہ اس منصوبے کے خلاف ایک مہم پٹیشن میں کہا کہ ’ہنکلی سی اس زمین پر سب سے مہنگی چیز بننے جا رہا ہے۔۔۔ بہترین اندازوں کے مطابق ہنکلی پر 24 ارب پاؤنڈ سے زائد کا خرچ آسکتا ہے۔‘

ان اعداد و شمار میں قرض لی گئی رقم پر سود کا تخمینہ بھی شامل ہے لیکن ہنکلی کے لیے مالی ذرائع اتنے مبہم ہیں کہ اس پر آنے والی حتمی لاگت جاننا ناممکن ہے۔

اگر آپ اس کی تعمیر پر خرچ ہونے والی رقم کا جائزہ لیں تو اس منصوبے کے کنٹریکٹر ای ڈی ایف اس کی لاگت 18 ارب پونڈ پیش کرتا ہے۔

لیکن اتنی رقم سے آپ دبئی میں قائم دنیا کی بلند ترین عمارت برج الخلیفہ جیسی عمارتوں کا ایک چھوٹا سا جنگل تعمیر کر سکتے ہیں۔ برج الخلیفہ کی تعمیر پر ایک ارب پاؤنڈ لاگت آئی تھی۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption برج الخلیفہ کی تعمیر پر ایک ارب پاؤنڈ لاگت آئی تھی

اتنی رقم سے آپ 70 میل لمبا پارٹیکل ایکسیلیٹر تعمیر کر سکتے ہیں۔ فرانس اور سوئٹزرلینڈ کی سرحد پر کائنات کے راز جاننے کے لیے بنائی گئی 17 میل لمبی لارج ہارڈن کولائیڈر پر محض چار ارب پاؤنڈ خرچ آئے تھے۔

چنانچہ ہنکلی سی اتنا مہنگا کیوں ہے؟

گرینویچ یونیورسٹی کے توانائی پالیسی کے پروفیسر سٹیو تھامس کہتے ہیں: ’جوہری پاور پلانٹ کا شمار ان پیچیدہ ترین آلات میں ہوتا ہے جو ہم بناتے ہیں۔

’جوہری پاور پلانٹس پر خرچ بڑھتا رہتا ہے جیسا کہ حادثات رونما ہوتے ہیں اور ہم اس کے خطرے سے بچاؤ کے لیے ڈیزائن ذہن میں رکھتے ہیں۔‘

اس کے مقابلے میں برطانیہ کا ایک اور پاور سٹیشن سائزویل بی کو سنہ 1995 میں مکمل ہوا تھا، اس کی تعمیر بھی 2.3 ارب پاؤنڈ یا آج کے دور کے مطابق 4.1 پاؤنڈ خرچ آیا تھا۔

رواں صدی کے دوران یورپ میں کوئی بھی جوہری پاورپلانٹ مکمل نہیں ہوا۔ جو حالیہ برسوں میں تعمیر کیے گئے ہیں جیسا کہ چین یا انڈیا میں، ان کے بارے میں تھامس کا خیال ہے کہ ان کے اعداد و شمار قابل بھروسہ نہیں ہیں۔

Image caption اہرام مصر کی تعمیر میں 50 کروڑ پاؤنڈ کے پتھر اور 30 کروڑ 50 لاکھ مزدوروں کی تنخواہ ہنکلی سی کے تخمینہ لاگت سے کہیں کم ہیں

تاریخی عمارتوں کے بارے میں کیا خیال ہے؟ کیا ہنکلی سی اہرام مصر کو بھی پیچھے چھوڑ دے گا؟

4500 سال سے زائد سال سے پرانی کسی ایسے عمارت کی تعمیراتی لاگت کے بارے میں آج کے دور کے حوالے سے اندازہ لگانا خاصا مشکل کام ہے۔ سنہ 2012 میں ٹرنر کنسٹرکشن کمپنی نے اہرام کی تعمیر کا تخمینہ 75 کروڑ سے 90 کروڑ ڈالر کے درمیان لگایا تھا۔

اس میں 50 کروڑ پاؤنڈ (73 کروڑ ڈالر) کے پتھر اور چار کروڑ پاؤنڈ (پانچ کروڑ 80 لاکھ ڈالر) کی 12 کرینیں شامل ہیں۔ تاہم یہ اندازہ لگایاگیا کہ اس کام کے لیے 600 افراد درکار ہوں گے۔ تاہم اس وقت اصل اہرام کی تعمیر پر کی تعمیر میں 20 ہزار نے حصہ لیا تھا۔

اور فرعون خوفو نے کتنے خرچ کیے؟ یہ قیاس ہے کہ دوہائیوں تک مزدور اہرام کی تعمیر سال میں چار ماہ کرتے تھے، جب دریائے نیل میں سیلاب کے باعث ان کے کھیت قابل کاشت نہیں ہوتے تھے۔

اس سے مراد چار لاکھ 84 ہزار دنوں کی مزدوری ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ چار ہزار افراد سارا سال کام کرتے تھے جس سے مزدوری کے دنوں کی کل تعداد سات کروڑ 76 لاکھ بن جاتی ہے۔ مصر میں مزدور کی کم سے کم مزدوری 3.93 پاؤنڈ روزانہ ہے، جس سے مزدوری کی کل لاگت 30 کروڑ 50 لاکھ بنتی ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ iStock
Image caption یوارچین اہرام مصر سے خاصا بڑا تعمیراتی منصوبہ تھا جو 5500 میل لمبی دیوار پر مشتمل ہے

تمام تر اندازوں کو مدنظر رکھتے ہوئے، اہرام مصر کی تعمیر میں 50 کروڑ پاؤنڈ کے پتھر اور 30 کروڑ 50 لاکھ مزدوروں کی تنخواہ ہنکلی سی کے تخمینہ لاگت سے کہیں کم ہیں۔

دیوارچین اہرام مصر سے خاصا بڑا تعمیراتی منصوبہ تھا جو 5500 میل لمبی دیوار پر مشتمل ہے۔ دراصل یہ بڑی تعداد میں دیواروں پر مشتمل ہے جن کی دو سو صدیوں کے وقت میں ہوئی اور یہ ایک عمارت کی تعریف پر پوری نہیں اترتی۔

جدید دور میں نہ ہیتھرو ٹرمینل 2 (2.3 ارب پاؤنڈ) اور نہ لندن میں نئی کراس ریل (14.8 ارب پاؤنڈ) ہنکی کا مقابلہ کر سکتے ہیں۔

لیکن ایک ایسا منصوبہ ہے جو بظاہر پاور پلانٹ کے قریب ترین دکھائی دیتا ہے۔ سعودی عرب کا شاہی خاندان مکہ کی مسجد الحرام کی تزئین نو پر مبینہ طور پر 16 ارب پاؤنڈ خرچ کر رہا ہے۔ لیکن اس میں نئی سڑک، ٹرین لین اور دیگر کئی چیزیں شامل ہیں چنانچہ اسے ایک چیز یا عمارت کے طور پر نہیں دیکھا جا سکتا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption سعودی عرب کا شاہی خاندان مکہ کی مسجد الحرام کی تزئین نو پر مبینہ طور پر 16 ارب پاؤنڈ خرچ کر رہا ہے

سنہ 1998 میں ہانگ کانگ کا ہوائی اڈہ ایک مصنوعی جزیرے پر تعمیر کیا گیا جس پر 13 ارب 70 کروڑ پاؤنڈ لاگت آئی ہے جو آج کے دور کے مطابق 20 ارب دس کروڑ بنتے ہیں۔ یہی ای ڈی ایف کی جانب سے ہنکلی سی کی تعمیر پر تخمینہ لاگت بتائی گئی ہے۔

کسی بھی صورت میں، اگر ہنکلی سی اسی بجٹ میں تعمیر ہوجاتا ہے، اگرچہ ایسا ہو نہیں ہوسکتا، یہ پھر بھی دنیا کا مہنگا ترین پاور سٹیشن زیادہ عرصے تک نہیں رہے گا۔

سٹیوتھامس کہتے ہیں: ’ہم ہنکلی میں صرف دو ری ایکٹرز تعمیر کر رہے ہیں۔ ترکی کے ساتھ ہمارا معاہدہ چار ری ایکٹرز کا ہے، جنوبی افریقہ چھ ری ایکٹز کا ٹینڈر جاری کرنے والا ہے۔‘

’جب آپ کو چھ ری ایکٹر کی تعمیر پر ہنکلی کے مقابلے میں تین گنا زیادہ لاگت آئے گی۔‘

زمین پر ان میں سے جو کوئی بھی سب سے زیادہ مہنگی چیز ہو آسمان پر موجود ایک شے ان سب کو دھندلا دیتی ہے۔

انٹرنیشنل سپیس سٹیشن۔ قیمت: ایک کھرب یورو یعنی 77 ارب 60 کروڑ پاؤنڈ یا ایک کھرب دس ارب ڈالر۔

تصویر کے کاپی رائٹ Alamy

اسی بارے میں