حلب میں مزید ہلاکتیں،’دو علاقوں میں جزوی جنگ بندی‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption حلب میں ایک ہفتے کے دوران جھڑپوں میں 200 عام شہری مارے جا چکے ہیں

شام کے شہر حلب میں دوبارہ جھڑپوں میں اطلاعات کے مطابق 26 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ شامی فوج نے حلب کے علاوہ دو علاقوں میں جزوی جنگ بندی کا اعلان کیا ہے۔

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ حکومت کے کنٹرول میں حلب کے ضلع باب الفراج میں باغیوں کے ایک مسجد پر گولہ باری کے نتیجے میں 15 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

دوسری جانب باغیوں کے زیر قبضہ علاقے میں واقع ایک طبی مرکز پر شامی افواج کے فضائی حملے میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

٭ حلب کی صورتحال ’تباہ کن‘ ہو چکی ہے: اقوام متحدہ

٭ امریکہ اور روس شام میں امن مذاکرت کو بچائیں: اقوام متحدہ

٭ ’شام کے شہر داریا میں صورت حال ابتر‘

٭ ادلب میں ’شامی فوج کی بمباری‘ سے 44 افراد ہلاک

دریں اثنا شامی فوج کے مطابق’امن کی حکومت‘ یعنی جنگ بندی سنیچر کو گرینج کے معیاری وقت کے مطابق رات دس بجے تک رہے گی۔ اعلان کے مطابق دمشق کے مضافاتی علاقے غوطہ میں 24 گھنٹے جب کہ صوبہ لاذقیہ کے شمالی علاقے میں 72 گھنٹے تک جنگ بندی رہے گی۔

شامی فوج کی جانب سے وضاحت نہیں کی گئی کہ عارضی جنگ بندی کیوں کی جبکہ اس میں حلب کا ذکر نہیں کیا گیا جہاں ایک ہفتے میں تشدد کے واقعات میں دو سو عام شہری مارے جا چکے ہیں۔

سرکاری ٹی وی کے مطابق باغیوں نے حلب میں حکومت کے زیر کنٹرول مغربی علاقے میں واقع مسجد پر اس وقت گولے داغے جب وہاں لوگ نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے بعد واپس جا رہے تھے۔

دوسری جانب برطانیہ سے شام کی صورتحال پر نظر رکھنے والی تنظیم کا کہنا ہے کہ باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقے پر فضائی حملوں میں کم از کم 11 افراد ہلاک ہو گئے ہیں جبکہ حزب مخالف کے کارکنوں کے مطابق ہلاکتوں کی تعداد 14 ہے۔

بین الاقوامی امدادی تنظیم آئی سی آر سی کے مطابق ’حلب کو ایک انسانی المیے کی جانب مزید دھکیلا جا رہا ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption فضائی بمباری میں طبی مراکز کو بھی نشانہ بنایا گیا

تنظیم کے مطابق شہر میں کئی ماہ سے عام لوگوں کو پانی اور بجلی دستیاب نہیں ہے جبکہ شہر کا ایک بڑا حصہ تباہ ہو چکا ہے۔

جمعرات کو اقوام متحدہ کے انسانی امداد کے رابطہ کار ژاں ایگلینڈ نے کہا ہے کہ شام کے شہر حلب میں گذشتہ دو دن میں صورتحال انتہائی تباہ کن ہو چکی ہے اور حکومت اور ’غیر جہادی‘ جنگجوؤں کے مابین 27 فرروی سے جاری جنگ بندی اب برائے نام ہی رہ چکی ہے۔

ژاں ایگلینڈ نے کہا کہ شام میں انسانی امداد میں شریک کارکنوں پر بمباری ہو رہی ہے اور اگلے چند دن شام میں لاکھوں لوگوں کو مہیا کی جانے والی انسانی امداد کی فراہمی کے لیے انتہائی اہم ہیں۔

واضح رہے کہ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے شام نے بدھ کو امریکہ اور روس دونوں پر زور دیا تھا کہ وہ امن مذاکرات کو بچانے کے لیے فوری طور پر ’انتہائی اعلیٰ سطح‘ پر مداخلت کریں۔

اسی بارے میں