چین نےامریکی بحری جہاز کو ہانگ کانگ آنے سے روک دیا

Image caption چین کی جانب سے امریکی بحری جہاز کو اجازت نہ دینے کے بارے میں کوئی سرکاری موقف نہیں دیا گیا ہے

امریکی وزراتِ خارجہ نے کہا ہے کہ چین نے ایک امریکی بحری جہاز کو ہانگ کانگ کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی ہے۔

امریکی حکام کا کہنا ہے کہ جوہری صلاحیت رکھنے والے ’یو ایس ایس جان سٹینس‘ نامی بحری جہاز کو جعمے کو ہانگ کانگ میں لنگر انداز ہونے سے روکا گیا۔

تاہم امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ امید کرتے ہیں کہ ایک اور امریکی بحری جہاز ’یو ایس ایس بلیو ریج ‘ کا دورہ ہانگ کانگ معمول کے مطابق ہوگا۔

خیال رہے کہ حالیہ سالوں میں جنوبی بحیرۂ چین میں واقع متنازع مصنوعی جزیرے پر چینی فوج کی موجودگی کے باعث دونوں ممالک کے تعلقات میں تناؤ رہا ہے۔

امریکی محمکمہ دفاع کے ترجمان کی جانب سے خبررساں ادارے روئٹر کو بتایا گیا ہے کہ ’ ماضی میں ہانگ کانگ کی بندر گاہ کے کئی دوروں کےباوجود اس بارے جہاز کو لنگر انداز ہونے کی اجازت نہیں دی گئی ہے۔‘

چین کی جانب سے امریکی بحری جہاز کو اجازت نہ دینے کے بارے میں کوئی سرکاری موقف نہیں دیا گیا ہے۔

امریکی بحری جہاز گزشتہ کئی ماہ سے خطے کے دورے پر ہے اور رواں ماہ کے اوائل میں امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر نے یو ایس ایس جان سٹینس پر اتر کر خطے میں موجود اپنے اتحادیوں سے یکجہتی کا اظہار کیا تھا۔

یاد رہے کہ چین بحیرۂ جنوبی چین کے پورے خطے پر اپنا حق جتاتا ہے جو دیگر ایشیائی ممالک ویتنام اور فلپائن کے دعوؤں سے متصادم ہے۔

ان ممالک کا الزام ہے کہ چین نے اس علاقے میں مصنوعی جزیرہ تیار کرنے کے لیے ناجائز قبضہ کر رکھا ہے اور اسے عسکری مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔

چین کا کہنا ہے کہ اس کا سمندر میں مصنوعی جزیرے اور اس پر تعمیرات کا مقصد شہریوں کے لیے سہولیات پیدا کرنا ہے لیکن دوسرے ممالک اس کی ان کوششوں کو فوجی مقاصد کے تناظر میں دیکھ رہے ہیں۔

اسی بارے میں