بغداد میں شیعہ مظاہرین پارلیمان کے اندر گھس گئے

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سیاسی تعطل کے خلاف اس ہفتے کے اوائل میں بھی لاکھوں لوگوں نے بغداد کے گرین زون علاقے میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا

عراق میں نئی کابینہ کی منظوری کے حوالے سے پیدا ہونے والے تعطل کے خلاف مظاہرہ کرنے والے شعیہ کارکنان دارالحکومت بغداد میں پارلیمان کی عمارت میں داخل ہوگئے۔

سنیچر کو ارکان پارلیمان کے درمیان اس امر پر اختلافات کے بعد جب ووٹنگ نہیں ہو پائی تو شعیہ لیڈر مقتدیٰ الصدر کے سینکڑوں حامی محفوظ گرین زون علاقے کے دروازے توڑتے ہوئے اندر پہنچ گئے۔

اس کے بعد حکام نے دارالحکومت بغداد میں ہنگامی حالت نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ایک منصوبے کے تحت مقتدیٰ الصدر وزیراعظم حیدرالعبادی پر کابینہ کے کئی وزرا کو تبدیل کرکے ان کی جگہ نئے وزیر مقرر کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔

لیکن پارلیمان کی کئی جماعتیں ان تبدیلیوں کی منظوری کے خلاف ہیں اور کئی ہفتوں سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption سنیچر کے روز جب اس معاملے پر پارلیمان میں ووٹنگ نہیں ہو پائی تو اس کے فورا بعد مقتدہ الصدر ٹی وی پر آئے اور پھر سے ہنگامہ شروع ہو گيا

اس سیاسی تعطل کے خلاف اس ہفتے کے اوائل میں لاکھوں لوگوں نے بغداد کے گرین زون علاقے میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

گرین زون بغداد کا وہ علاقہ ہے جہاں سخت ترین سکیورٹی میں دنیا کے سفارتخانے، اہم دفاتر اور عمارتیں واقع ہیں۔

سنیچر کے روز جب اس معاملے پر پارلیمان میں ووٹنگ نہیں ہو پائی تو اس کے فورا بعد مقتدیٰ الصدر ٹی وی پر آئے اور پھر سے ہنگامہ شروع ہو گيا، تاہم انہوں نے پارلیمان کی عمارت میں گھسنے کی کوئي بات نہیں کہی تھی۔

خبر رساں ادارے اے ایف کے مطابق مظاہرین نے ارکان پارلیمان کو اس وقت گھیر لیا جب وہ ایوان سے باہر نکل رہے تھے اور نعرہ لگایا کہ ’بزدل فرار ہو رہے ہیں۔‘

برطانوی خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق مظاہرین نے ایوان پارلیمان میں لوٹ کھسوٹ شروع کر دی۔ اس دوران اقوام متحدہ کے اہلکاروں اور دیگر سفارت خانوں کے عملے نے اپنی عمارتوں کو باہر سے تالا لگا کر بند کردیا۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters

حیدر العبادی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کر دیں گے لیکن ابھی تک وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

مقتدیٰ الصدر عراق میں مہدی آرمی نامی ملیشیا کے سربراہ ہیں جنہوں نے ملک میں امریکہ کے خلاف زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔

سنہ 2006 تا 2007 میں ان کی عسکری تنظیم پر ہزراوں سنیوں کو تشدد کر کے قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران وہ ایران فرار ہوگئے تھے۔

وہ 2011 میں ایران سے دوبارہ عراق واپس آ گئے تھے اور عراقیوں کو امن کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔

اسی بارے میں