بازیاب کروائے گئے 30 سے زائد شیر جنوبی افریقہ منتقل

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption یہ شیر جنگل میں زیادہ عرصہ زندہ نہیں سکتے

جنوبی امریکی ممالک کولمبیا اور پیرو کی سرکسوں سے بازیاب کروائے گئے 30 سے زائد شیر جنوبی افریقہ پہنچ گیے ہیں جہاں وہ ایک محفوظ پناہ گاہ میں نئی زندگی کا آغاز کریں گے۔

نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ شیر بظاہر صحت مند ہیں تاہم ان میں طویل سفر سے تھکاوٹ کے اثرات دیکھے جاسکتے ہیں۔

٭ 30 شیروں کی سرکس سے رہائی

ان میں ایک سرکس نے شیر خود فراہم کیے تھے جبکہ دیگر چھاپہ مار کارروائیوں کے دوران تحویل میں لیے گئے۔

جانوروں کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی امریکی تنظیم اینیمل ڈیفنڈرز انٹرنیشنل (اے ڈی آئی) نے یہ اقدام اٹھایا تھا۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام شیر دانت اور پنجوں کے ناخن سے محروم ہیں۔

یہ شیر جنگل میں زیادہ عرصہ زندہ نہیں سکتے۔

ان شیروں کو جنوبی افریقہ میں 5000 ہیکٹر پر پھیلے ایمویا بگ کیٹ سینچوری منتقل کیا جائے گا۔ جہاں انھیں پانی پینے کے تالاب، کھلونے اور طبی سہولیات میسر ہوں گی۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption اے ڈی آئی تنظیم کا کہنا ہے کہ تقریباً تمام شیر دانت اور پنجوں کے ناخن سے محروم ہیں

اینیمل ڈیفنڈرز انٹرنیشنل کے ترجمان جان کریمر کا کہنا ہے کہ ’یہ ایک نہایت اہم ریسکیو مشن ہے اور یہ دنیا بھر میں لوگوں کی جانب سے جانوروں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک کے بارے میں پیغام دیتا ہے۔‘

نو شیروں کو کارگو طیارے کے ذریعے کولمبیا کے دارالحکومت بوگوٹا سے پیرو کے دارالحکومت لیما پہنچایا گیا جہاں سے مزید 24 شیروں کو لے کر جوہانسبرگ پہنچایا گیا ہے۔

خبررساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اے ڈی آئی کے نائب صدر ٹام فلپس نے کہا کہ ’ان شیروں کو افریقہ جنگل میں پھرتے دیکھنا نہایت اطمینان بخش نظارہ ہوگا۔‘

ان شیروں کو پیرو میں جنگلی جانوروں کے استعمال پر سنہ 2011 اور کولمبیا میں سنہ 2013 میں عائد پابندیوں کے نتیجے میں آزاد کرایا گيا ہے۔

خیال رہے کہ جنوبی افریقہ میں قائم امویا بگ کیٹ سینچوری نجی زمین پر واقع ہے اور وہاں پہلے سے بازیاب کروائے گئے چھ دیگر شیر اور دو چیتے رہ رہے ہیں۔

اسی بارے میں