بغداد:پارلیمان کے باہر مظاہرین کا پڑاؤ،گرفتاریوں کا حکم

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption گذشتہ روز جب مظاہرین پارلیمان کی عمارت میں داخل ہوئے تھے تب سے صورت حال جوں کی توں ہے اور اس علاقے میں سخت گیر شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے حامیوں کی ہنگامہ آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے

عراق کے دارالحکومت بغداد کے گرین زون میں ہزاروں کی تعداد میں مقتدیٰ الصدر کے حامی شیعہ مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت پر دھاوا بولنے کے بعد اب بھی عمارت کے باہر ڈیرا ڈال رکھا ہے جبکہ وزیر اعظم حیدر العبادی نے مظاہرین کی گرفتاری کا حکم دیا ہے۔

یہ گرین زون بغداد کا وہ علاقہ ہے جہاں سخت ترین سکیورٹی میں دنیا کے سفارتخانے، اہم دفاتر اور عمارتیں واقع ہیں۔

٭ بغداد میں شیعہ مظاہرین پارلیمان کے اندر گھس گئے

٭ اصلاحات کے حق میں بڑے مظاہرے کی کال

حکومت کی جانب سے ہنگامی حالات کا نفاذ بھی کر دیا گیا ہے اور وزیراعظم حیدر العبادی کا کہنا ہے کہ شہر میں صورتحال کنٹرول میں ہے۔

لیکن گذشتہ روز جب مظاہرین پارلیمان کی عمارت میں داخل ہوئے تھے تب سے صورت حال جوں کی توں ہے اور اس علاقے میں سخت گیر شیعہ رہنما مقتدی الصدر کے حامیوں کی ہنگامہ آرائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔

سکیورٹی حکام کی جانب سے قابو پانے کے لیے آنسو گیس کا استعمال کیا گیا اور فائرنگ بھی ہوئی تاہم تشدد کا کوئی بڑا واقعہ نہیں پیش آیا۔

خبررساں اداروں کے مطابق مقتدیٰ الصدر کی ملیشیا کے کارکنان نے مظاہرے کے انتظامات سنبھالے ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ ایک منصوبے کے تحت مقتدیٰ الصدر وزیراعظم حیدرالعبادی پر کابینہ کے کئی وزرا کو تبدیل کرکے ان کی جگہ نئے وزیر مقرر کرنے کا دباؤ ڈال رہے ہیں۔

لیکن پارلیمان کی کئی جماعتیں ان تبدیلیوں کی منظوری کے خلاف ہیں اور کئی ہفتوں سے یہ معاملہ تعطل کا شکار ہے۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption ی ہزاروں کی تعداد میں مظاہرین نے پارلیمان کی عمارت کے باہر گرین زون میں موجود ہیں

اس سیاسی تعطل کے خلاف اس ہفتے کے اوائل میں ہزاروں لوگوں نے بغداد کے گرین زون علاقے میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا۔

مقتدیٰ الصدر کے حامیوں کا خیال ہے کہ ٹیکنوکریٹس کی نئی حکومت موجود کابینہ سے کم بدعنوان ہوگی، جو سیاسی جماعتوں اور مذہبی وفاداریوں کی بنیاد پر قائم ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم حیدر العبادی نے مظاہرین نے احتجاج کے لیے مختص علاقوں میں چلے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

حیدر العبادی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد کہا تھا کہ وہ ملک سے کرپشن اور فرقہ وارانہ کشیدگی کو ختم کر دیں گے لیکن ابھی تک وہ اس میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption اس سیاسی تعطل کے خلاف اس ہفتے کے اوائل میں بھی لاکھوں لوگوں نے بغداد کے گرین زون علاقے میں احتجاجی مظاہرہ بھی کیا تھا

مقتدیٰ الصدر عراق میں مہدی آرمی نامی ملیشیا کے سربراہ ہیں جنھوں نے ملک میں امریکہ کے خلاف زبردست مہم شروع کر رکھی تھی۔

سنہ 2006 تا 2007 میں ان کی عسکری تنظیم پر ہزراوں سنیوں کو تشدد کر کے قتل کرنے کا بھی الزام ہے۔ اس دوران وہ ایران فرار ہوگئے تھے۔

وہ 2011 میں ایران سے دوبارہ عراق واپس آ گئے تھے اور عراقیوں کو امن کے لیے متحد ہونے کی اپیل کی تھی۔

اسی بارے میں