یمن: حوثیوں کا فوجی اڈے پر قبضہ، مذاکرات معطل

تصویر کے کاپی رائٹ EPA
Image caption طرفین نے ایک دوسرے پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزامات لگائے ہیں

یمنی حکومت نے حوثی باغیوں کی جانب سے دارالحکومت صنعا کے شمال میں واقع فوجی اڈے پر قبضے کے بعد حوثیوں سے براہ راست امن مذاکرت معطل کر دیے ہیں۔

عمران صوبے کے عمالقہ فوجی اڈے پر ہونے والے حملے میں بہت سے فوجیوں کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

اقوام متحدہ کی ثالثی میں ہونے والے امن مذاکرات میں حکومت کی جانب سے شرکت کرنے والے مندوبین کے سرابرہ اور یمن کے وزیر خارجہ عبدالمالک المخلفی نے کہا ہے کہ حملے نے مذاکرات میں شگاف کر دیا۔

طرفین نے ایک دوسرے پر 20 دنوں سے جاری جنگ بندی کی خلاف ورزی کے الزام لگائے ہیں۔

تاہم گذشتہ روز سنیچر کو اقوام متحدہ نے امن مذاکرات کے سلسلے میں کہا تھا کہ بعض روکاوٹوں کے باوجود سیاسی افہام وتفہیم کے مثبت اشارے مل رہے ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption یمن میں گذشتہ ایک سال سے جنگ جاری ہے

خیال رہے کہ یمن میں تقریباً ایک سال سے جاری لڑائی کے بعد 11 اپریل سے جنگ بندی کا آغاز ہوا تھا اور اقوامِ متحدہ کے خصوصی نمائندے اسماعیل شیخ احمد نے جنگ بندی کا خیر مقدم کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’یہ ملک کی ازسرِ نو تعمیر کا بہترین موقع ہے۔

یمن میں موجود حوثی باغی جنھیں ایران کی حمایت حاصل ہے اور جو یمنی حکومت کو ختم کرنا چاہتے ہیں، انھوں نے بھی اس معاہدے کی پاسداری کا اعلان کیا تھا۔

یمن میں جنگ نے انسانی زندگی پر تباہ کن اثرات مرتب کیے ہیں، جہاں آج ہر پانچ میں سے چار افراد کی زندگی کا انحصار امداد پر ہے۔ یمن عرب دنیا کے غریب ممالک میں سے ایک ہے۔ ‘

اسی بارے میں