ترک شہریوں کو ویزا فری یورپ کی اجازت کا امکان

تصویر کے کاپی رائٹ AFP

بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ یورپی کمیشن بدھ کو ترکی کے شہریوں کو شینگن معاہدے میں شامل یورپی ممالک کے بغیر ویزا سفر کی مشروط اجازت دے رہا ہے۔

یورپی کمیشن نے ویزے میں سہولت ترکی کی جانب سے یونان جانے والے پناہ گزینوں کو واپس لینے کے معاہدے کے بعد دی ہے۔

ترکی اور یورپی یونین میں جو معاہدہ طے پایا تھا اس کے مطابق 20 مارچ کے بعد غیر قانونی طور پر یونان پہنچنے والے کسی بھی ایسے شخص کو جس نے پناہ حاصل کرنے کے لیے درخواست نہ دی ہو یا پھر اس کی درخواست مسترد کر دی گئی ہو، ترکی واپس بھیج دیا جائے گا۔

تاہم اب بھی ترکی کو یورپی یونین کے قواعد و ضوابط کو پورا کرنا ہو گا اور ویزے میں سہولت کے معاہدے کی یورپی پارلیمان اور اس کے رکن ممالک سے منظوری حاصل کرنا ہو گی۔

یورپی یونین کو خدشہ ہے کہ اس معاہدے کے بغیر ترکی تارکین وطن کے مسئلے پر قابو نہیں پائے گا۔

ویزے میں ملنے والی سہولت کے تحت ترک شہریوں کو سیاست اور کاروباری دورے کے لیے تین ماہ کا شینگن ویزہ مل سکے گا تاہم اس کے تحت ترک شہری یورپ میں ملازمت حاصل نہیں کر سکیں گے۔

شینگن میں برطانیہ، قبرص اور آئرلینڈ شامل نہیں ہیں اور ترک شہریوں کو ان ممالک میں جانے کے لیے ویزہ درکار ہو گا۔

ترکی نے خبردار کیا تھا کہ اگر اس کو شینگن ویزے میں سہولت نہیں دی گئی تو اس صورت میں وہ غیر قانونی طریقے سے یونان پہنچنے والے تارکین وطن کو واپس نہیں لے گا۔

اس سے پہلے گذشتہ ماہ رکی اور یورپی یونین کے درمیان معاہدے کے بعد یونان میں آنے والے پناہ گزینوں کی تعداد میں ڈرامائی کمی واقع ہوئی تھی اور یونان کے لیزبوس جزیرے میں ہر روز پانچ ہزار سے زائد پناہ گزین آیا کرتے تھے لیکن وہاں ایک دن میں صرف چار پناہ گزین وہاں پہنچے۔

اسی بارے میں