اربل میں دولتِ اسلامیہ کا حملہ، ایک امریکی اہلکار ہلاک

Image caption امریکی اہلکار کی ہلاکت پیش مرگہ کے دستوں سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوئی

امریکی وزیرِ دفاع ایش کارٹر کا کہنا ہے کہ ایک امریکی اہلکار عراق کے شمالی شہر اربل کے قریب کے ہلاک ہو گئے ہیں۔

عراق کے لیے مزید 200 امریکی فوجی

ایش کارٹر نے صحافیوں سے گفتگو میں بتایا ہے کہ امریکی اہلکار کی ہلاکت دشمن کی جانب سے لگائی جانے والی آگ کے باعث ہوئی تاہم انھوں نے اس حوالے سے مزید تفصیلات فراہم نہیں کی ہیں۔

امریکی اتحاد کی قیادت میں کرد فورسز خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی تنظیم کے خلاف کارروائی کر رہی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ امریکی اہلکار کی ہلاکت کرد دستوں سے پانچ کلومیٹر کے فاصلے پر ہوئی۔

اس سے قبل یہ اطلاع موصول ہوئی تھی کہ شمال عراق میں رات کے وقت محتلف محاذوں پر دولتِ اسلامیہ نے حملے کیے ہیں۔

عراق کے فوجی اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ سپیشل فورسز نے پانچ خودکش حملہ آوروں کی جانب سے موصل کے جنوب میں واقع خربردان نامی دیہات پر کیے جانے والے حملے کو ناکام بنادیا تھا۔

امریکی فوج نے کرد جنگجوؤں اور مسیحی ملیشیا کے ساتھ مل کر موصل کے شمالی دیہات تل اسقوف کو بھی شدت پسندوں کے قبضے سے چھڑوانے کی کوشش کی۔

کرد ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ موصل کے مشرق میں وردک کے مقام پر کیے جانے والے حملے کو بھی ناکام بنایا گیا۔

امریکی فوج نے عراق میں سنہ 2014 دولتِ اسلامیہ کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا تھا۔

اس وقت عراق میں امریکہ کے 5500 سے زائد اہلکار موجود ہیں۔ 3870 مقامی فوسرز کو دولتِ اسلامیہ کے خلاف لڑائی میں رہنمائی کر رہے ہیں جبکہ دیگر لاجسٹک سپورٹ اور خصوصی آپریشنز میں حصہ لے رہے ہیں۔

اسی بارے میں