اسد کی حکمت عملی سے خانہ جنگی نہیں رکے گی: امریکہ

تصویر کے کاپی رائٹ Getty
Image caption شام کے شہر حلب میں حکومت اور باغیوں دونوں جانب سے حملے جاری ہیں

امریکی وزیر خارجہ جان کیری نے شام کے صدر بشار الاسد کو متنبہ کیا ہے کہ فوجی سبقت حاصل کرنے سے خانہ جنگی کا خاتمہ نہیں ہوگا۔

جان کیری نے کہا کہ اگر شامی حکومت نے فروری میں تشدد کے خاتمے کے لیے ہونے والے معاہدے کی خلاف ورزی کی کوشش کی تو اس کا ردعمل سامنے آئے گا۔

٭ حلب میں جنگ بندی پر اتفاقِ رائے کے قریب ہیں: جان کیری

٭ حلب میں مزید ہلاکتیں،’دو علاقوں میں جزوی جنگ بندی‘

مشرقی علاقوں بطور خاص حلب میں جنگ میں آنے والی تیزی سے جزوی جنگ بندی کو خطرہ لاحق ہے۔ خیال رہے کہ گذشتہ دس دنوں میں وہاں ڈھائی سو سے زیادہ افراد مارے جا چکے ہیں۔

منگل کو سفارتی کوششوں میں تیزی آئی ہے اور روسی وزیر خارجہ سرگے لاوروف نے کہا کہ شامی فوج کی جانب سے یک طرفہ جنگی بندی کا آنے والے چند گھنٹوں میں حلب پر بھی اطلاق ہو سکتا ہے۔

اقوام متحدہ کے سفیر سٹیفان ڈی مسٹورا کے ساتھ ماسکو میں بات چیت کے بعد لاوروف نے کہا روس امریکہ اور اقوام متحدہ کے ساتھ مل کر کام کر رہا ہے تاکہ حلب کو ’امن کی حکومت‘ میں شامل کر لیا جائے۔ ابھی تک اس میں دمشق اور لاذقیہ شامل ہیں۔

تصویر کے کاپی رائٹ AFP
Image caption جان کیری نے واشنگٹن میں یہ باتیں کہی ہیں

انسانی حقوق کی تنظیم سیرین آبزرویٹری نے کہا ہے منگل کو حلب کے حکومت کے زیر قبضہ علاقوں میں باغیوں کے راکٹ حملوں میں کم از کم 19 افراد ہلاک ہوئے ہیں۔

سرکاری میڈیا کے مطابق ایک ہسپتال حملے کی زد میں آیا ہے جس میں تین افراد ہلاک اور 17 زخمی ہوئےہیں۔

گذشتہ بدھ کو ہونے والے ایک فضائي حملے میں ایک ہسپتال کو نشانہ بنایا گیا جس میں 55 افراد ہلاک ہوئے تھے۔ امریکہ نے ان حملوں کی ذمہ داری حکومت شام پر عائد کی تھی۔

واشنگٹن میں جان کیری نے کہا کہ وہ تشدد میں کمی کے لیے پرامید ہیں۔ انھوں نے صدر الاسد کو جنگ بندی کی خلاف ورزیوں پر متنبہ کیا ہے۔

انھوں نے کہا: ’اگر اسد اس کی پاسداری نہیں کرتے تو واضح طور پر ردعمل ہوگا اور ان میں سے ایک جنگ بندی کے خاتمے کے لیے پورا ذمہ دار ہوگا اور پھر جنگ شروع ہو جائے گی۔ میرے خیال سے روس ایسا نہیں چاہتا۔‘

تصویر کے کاپی رائٹ Reuters
Image caption لاورو نے اقوام متحدہ کے سفیر مسٹورا کے ساتھ بات چیت کی ہے

انھوں نے مزید کہا: ’اگر اسد کی یہ حکمت عملی ہے کہ کسی طرح حلب کو حاصل کر لیں اور ملک کے ایک طبقے کو نکال لیں تو میں انھیں یہ خبر سنا دوں کہ جنگ ختم نہیں ہو گي۔‘

’جب تک کہ جنگ کے مسئلے کا حل نہیں ہوتا یہ اسد کے لیے طبعی طور پر ناممکن ہے کہ ایک علاقے کو نکال کر یہ ظاہر کریں کہ وہ اسے محفوظ بنا دیں گے، اور جب تک اسد وہاں ہیں حزب اختلاف جنگ بند نہیں کرے گی۔‘

انھوں نے شام میں سیاسی تبدیلی کے لیے اگست کی ڈیڈ لائن کی بات پر زور دیا۔

اسی بارے میں